ہے کہ مخالفت کی وجہ سے حق بات پر بھی غور نہیں کرتے اور یونہی کوئی بات سنی منہ پر جھاگ آجاتی ہے اور پھر جو زبان پر آجاتا ہے کہہ دیتے ہیں۔مگر یاد رکھو یہ امر تقویٰ کے خلاف یہ ۔متقی کی زبان ڈرتی ہے کہ بغیر سوچے سمجھے کوئی بات منہ سے نکالے۔ میرا معاملہ اگر سمجھ میں نہیں آتا تو طریقِ تقویٰ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے دعائیں مانگو تا کہ وہ خود تم پر اصل حقیقت کھول دے۔خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی نہ کرو؛ ورنہ طریقِ نجات بھول جانے کا اندیشہ ہے۔آج وقت ہے بصیرت سے کام لو۔ قرآنِ شریف قانونِ آسمانی اور نجات کا ذریعہ ہے۔اگر ہم اس میں تبدیلی کریں تو یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔تعجب ہوگا کہ ہم یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور پھر قرآنِ شریف کے لیے وہی روارکھتے ہیں۔مجھے اور بھی افسوس اور تعجب آتا ہے کہ وہ عیسائی جن کی کتابیں فی الواقعہ محرف مبدل ہیں وہ تو کوشش کریں کہ تحریف ثابت نہ ہو اور ہم خود تحریف کرنے کی فکر میں!!! دیکھو افتراء کرنے والا خبیث اور موذی ہوت اہے اور خد اتعالیٰ کے کلام میں تحریف کرنا۔یہ بھی افتراء ہے اس سے بچو۔ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ غرض قرآنِ شریف کی یہ آیت صاف طور پر مسیح کی وفات کا وعدہ دیتی ہے اور جس قدر وعدے اس آیت میں رافعک الی سے شروع ہو کر آخر تک ہیں۔وہ ہمارے مخالف بھی مانتے ہیں کہ پورے ہو گئے حالانکہ وہ سب بعد وفات ہیں ۔پھر وفت کا انکار کیوں کیا جاتا ہے۔ علاوہ بریں آنحضرت ﷺ مُجزِ صادق ہیں جو مسلمان کہلا کر بھی آپ پر ایمان نہیں لاتا ارو آپؐ کو مخبرِ صادق تسلیم نہیں کرتا وہ بڑی بد ذاتی کرتا ہے ۔آپ نے تو فرمایا ہے کہ میں نے مسیح کو دوسرے آسمان پر یحییٰ کے پاس دیکھ اہے۔اب کیا یہ آنحضرت ﷺ کی شہادت ہے یا نہیں۔اگر حضرت عیسیٰ ؑدرحقیقت وفات یافتہ نہ تھے بلکہ زندہ تے تو پھر اس سوال کا کیا جاوب ہے کہ ایک وفات یافتہ سے کیا تعلق ہے؟ ان کی تو روح بھی ابھی قبض نہیں ہوئی تھی۔ادنیٰ فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ مردے کے پاس تو مردہ ہی ہو سکت اہے۔پھر یہ کیا ہوا کہ مردہ کے پاس زندہ جا بیٹھا۔یہ صرف اپنی ہی غلطی ہے۔ورنہ سچ یہی ہے کہ حضرت مسیحؑ بھی مرکر ہی یحییٰ ؑکے پاس گئے ہیں۔جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے قول سے یعنی قرآنِ شریف سے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے فعل یعنی رؤیت سے ثابت کر دیا ۔جو اس قول اور فعل کو نہیں مانتا اسے پھر میں کیا کہوں ۔ان دو گواہوں کے بعد اور کس گواہ کی حاجت