کہ یا عیسیٰ انی رافعک الی السماء الثانیۃ و متوفیک اور کہہ دیا یہ جو آیت میں درج ہے۔
اب میں قرآن کو چھوڑتا ہوں اور اس کے خلاف کہتا ہوں یا یہ خو د کرتے اور کہتے ہیں۔انصاف سے بولو اگر یہ تحریف نہیں تو کیا ہے۔اسی پر مجھے کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن کے خلاف یہ۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن کی تحریف ہے جس سے یہودیوں پر لعنت پڑی اور وہ سؤر اور بندر بنے۔یہودی جو تحریف کرتے تھے۔ان کے متعلق بھی یہی فرمایا ہے
یحرفون الکلم عن مواضعہ (النساء : ۴۷)
اور جب تم بھی اسی قسم کی تحریف کرتے ہو تو قرآنِ شریف پر تمہارا اچھا ایمان یہ۔میں زور سے کہتا ہوں کہ کیا وہ دل خدا ترس ہے اور میں تقویٰ کا حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کے کلام میں تصرف کرنا چاہتا ہے۔اگر تم سچے ہو اور تحریف نہیں کرتے تو پھر وہ حدیث صحیح پیش کرو جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہو کہ رافعک الی کی بجائے رافعک الی السماء الثانیۃ چاہیے اور یہ متوفی سے پہلے ہے۔قرآنِ شریف میں جو لکھ اہوا ہے وہ غلط ہے۔تم سُن رکھو کہ ہرگز ہرگز کوئی شخص ایسی حدیث صحیح پیش کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
جس قدر صاحب یہاں موجود ہیں آخر ہوش وحواس رکھتے ہیں وہ انصاف سے کہیں کہ اگر کوئی شخص تمسک کو الٹ پلٹ کرتا ہے تو وہ جعلسازی کامرتکب ہوت اہے یا نہیں اور وہ اس جعلسازی کی سزا میں جیل میں بھیجا جاتا ہے۔پھر یہ اندھیر کیوں روارکھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اُلٹ پلٹ کیا جاوے۔خد اسے ڈرو یہ بہت خطرناک دلیری ہے۔ہاں اگر صحیحین میں کوئی حدیث درج ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس طرح پر فرمایا ہے تو پیش کرو ہم مان لیں گے۔لیکن اگر تم پیش نہ کرو اور نہیں کر سکو گے تو یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ خود کہہ دو اور دوسری غلطیوں کو قرآن شریف کی ظرح بنالو۔ہم بار بار تم سے پوچھیں گے کہ بخاری یا مسلم میں دکائو کہ اس میں لکھا ہے کہ رافعک الی السماء الثانیۃ پڑھا کرو۔
دیکھو۔ان باتوں پر غور کرو۔میرا یہ مدعا نہیں کہ ہر ایک شخص محض اس وجہ سے کہ وہ میرے ساتھ عداوت رکھتا ہے اور تعصب نے اس کے جوش کو بڑھا دیا ہے بے اختیار بول اُٹھے۔اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں صرف خدا تعالیٰ کے لیے کہتا ہوں ۔انسان کی جھوٹی منطق کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔اس یے میں مقابلہ کرنے کے لیے نہیں آیا ہوں،لیکن میں اپنے دل میں مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی کے لیے ایک جوش رکھتا ہوں جو اﷲ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے، اس لیے سچے دل سے کہت اہوں اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاک کلمات سے مجھے خبر دی یہمت سمجھے کہ میں بیہودہ طور پر کرتا ہوں بلکہ سچ مچ یہی بات ہے۔پس جلد بازی نہ کرو کہ جلدی صحیح نتیجہ پر پہنچنے سے روک دیتی ہے۔میں جانت اہوں کہ بہت سے لوگ اپنے سیین اور دل کو تھام نہیں سکتے اور یہ مرض کثرت سے پھیل گیا