ہو تو ممکن نہیں کہ طاعون نہ ہٹ جائے۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف جب میں کہتا ہوںکہ سچی تبدیلی کرو اور استغفار کرو۔ خداتعالیٰ سے صلح کرو تو میری ان باتوں پرہنسی کرتے ہیںاور ٹھٹھے اڑاتے ہیں اور اب خود بھی دعا ہی اس کا علاج بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ طاعون ان کے ہی سبب سے آیا ہے کیونکہ انھوں نے جھوٹے دعوے کئے تھے۔ مجھے ان کی اس بات پر بھی تعجب اور افسوس آتا ہے کہ میں تو جھوٹے دعوے کرکے سلامت بیٹھا ہوں؛ حالانکہ بقول ان کے طاعون میرے ہی سبب سے آیا ہے اور مجھے ہی حفاظت کا وعدہ دیا جاتاہے۔یہ عجیب معاملہ ہے۔ یہ بات تو ان عدالتوں میں بھی نہیں ہوتی کہ صریح ایک مجرم ہو وہ چھوڑ دیا جاوے اور بے گناہ کوپھانسی دے دی جاوے۔ پھر کیا خداتعالیٰ کی خدائی ہی میں یہ اندھیر اور ظلم ہے کہ جس کے لیے طاعون بھیجا جاوے وہ تو محفوظ رہے اور اس کو سلامتی کا وعدہ دیا جاوے اور وہ ایک نشان ہو اور دوسرے لوگ مرتے رہیں؟ میں کہتا ہوں اسی ایک بات کو لیکر کوئی شخص انصاف کرے اور بتاوے کہ کیا ہو سکتا ہے کہ جو شخص اﷲتعالیٰ پر افترا کرے وہ سلامت رہے اور اس کو یہ وعدہ دیا جاوے کہ تیرے گھر میں جو ہوگا وہ بھی بچایا جاوے گا اور دوسروں پر چُھری چلتی رہے؟ یہ تو وہی شیعوں کی سی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبوت دراصل حضرت علیؓ کو ملنی تھی اور انہیں کے واسطے جبریل ؑ لائے تھے مگر غلطی سے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کو دے دی اور تیئس سال تک برابر یہ غلطی چلی گئی اور اس کی اصلاح نہ ہوئی۔ ایسا ہی اب بھی غلطی لگ گئی۔ جن کی حفاظت کرنی تھی وہ تو مر رہے ہیں اور جو حفاظت کے لائق نہ تھے۔ ان کی حفاظت کا وعدہ ہو گیا۔ بھلا اس قسم کی باتوں پر کوئی تسلی پا ساکتا ہے؟
طاعون سے معجزا نہ حفاظت
ایک امر تسری ملا کا ذکر آیا کہ وہ کہتا ہے کہ ایک سال گذر گیا تو کیا ہوا۔ ابھی آگے دیکھنا چاہیے۔ فرمایا: وہ تو ایک سال کہتا ہے۔ ہم تو یقین رکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ بالکل سچا ہے اور سے کے دورے تو ستر ستر سال تک ہوتے ہیں۔ وہ منتظررہیں اور دیکھیں کیا، ہوتا ہے۔ ہم بھی ان کے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔ وہ ہماری نسبت اگر کوئی خبر خداتعالیٰ سے پا چکے ہیں، تو شائع کر دیں۔ ہم کو تو جو کچھ خداتعالیٰ نے بتایا ہے ہم نے تو اس کر دیا ہے۔ اور دنیا کو معلوم ہو گیا ہے۔ وہ صبر کے ساتھ اب انجام تک دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔
یہ لوگ ہماری نسبت طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں۔ وہ آخر ان پر ہی لوٹ کر پڑتی ہیں۔ ایک بٹالوی مولوی نے ایک مرتبہ کہا کہ قادیان میں طاعون پڑی ہوئی ہے اور خود ان کو بھی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔ یہ ان