اور پھر سب لوگ جانتے ہیں اور ہر روز دیکھتے ہیں کہ کس قدر مخالفت ہو رہی ہے۔اور کیا اس مخالفت سے یہ سلسلہ رُک گیا یا اس نے ترقی کی؟ اگر کوئی ایسی نظیر دنیا میں موجود ہے اور کوئی شخص ایسی کتاب پیش کر سکتاہے جس میں ایک عرصہ پہلے ایسی پیشگوئیاں درج ہوں اور وہ پوری ہوئی ہوں۔یقینا یاد رکھو کہ کہ کسی مفتری اور کذاب سے ایسا سلوک نہیں کیا جاتا اور اس قدر مہلکت اور فرصت اسے نہیں دی جاتی۔اگر کوئی ایسا مفتری یا کذاب پیش کای جاوے تو ہم قبول کرلیں گے۔پھر ایسی مخالفت کے متعلق یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ ہر مخالفت کرنے والا اپنے منصوبوں اور تجویزوں میں ناکام اور نامراد رہے گا۔خواہ وہ مولوی ہو یا فقیر ہو یا امیر ہو کوئی ہو۔اور اب تک واقعات نے اس امر کو سچا ثابت کر دکھایا ہے اورمیں کھلے دل سے بیان کرتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کی ان پیشگوئیوں اور ان مکالمات پر جو میرے ساتھ ہوتے ہیں ایسا ہی یقین رکھتا ہوں جیس اکہ خد اکی دوسری کتابوں پر ایمان لاتا ہوں۔اس نے یہ بھی مجھے فرمایا ہے کہ میں تجھے بہت برکت دوں گ یہانتک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔وہ زمانہ خواہ کبھی آنے والا ہو،لیکن میںیقین رکھتا ہوں کہ اسی طرح ہوگا۔اس زمانہ کے لوگ دیکھیں گے یا اُن کے بیٹے یا اُن کے بیٹے ۔غرض یہ ہوگا ضرور۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک نقطہ یا شوشہ نہ ٹلے گا۔
غرض یہ نشانات ہیں جن پر غور کرنا چاہیے اور ٹھنڈے دل سے سوچو کہ مفتری کو یہ تائیدیں نہیں ملا کرتیں۔پھر بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم نشانات کو کیا کریں قرآنِ شریف کے خلاف مسائل پیش کیے جاتے ہیں۔مجھے ایسا کہنے والوں پر بھی افسوس آتا ہے کہ اگر اُن کا قرآنِ شریف پر ایمان ہوتا تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے،کیونکہ ہم نے بارہ ظاہر کیا ہے۔اور کتابوں میں شائع کیا ہے کہ ہم قرآنِ شریف پر ایمان لاتے ہیں۔اگر کوئی شخص ایک آیت کا بھی انکار کرے وہ گمراہ اور جہنمی ہے جو آنحضرت ﷺ کا انکار کرے وہ کافر ہے مگر کیا کروں یہ لوگ بنی اسرائیل کی طرف جنہوں نے آنحضرت ﷺ کا انکار کیا نہیں مانتے اور انکار کرتے ہیں۔مُجھ میں اور ان میں یہی اختلاف یہ کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آیت
یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی (ال عمران : ۵۶)
کی ترتیب جو قرآن شریف میں ہے صحیح نہیں ہے مگرمیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی نسبت ایسا اعتقاد رکھنا یا گمان کرنا خطرناک بے ادبی اور شوخی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس آیت کی ترتیب صحیح ہے اور اسی لیے اس کے یہ معنے ہیں ہ اے عیسیٰ میں تجھے وفت دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں۔مگر یہ لوگ ا س ترتیب کو غلط (معاذاﷲ ) ٹھہراتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ رافعک الی کی جگہ رافعک الی السماء الثانیۃ چاہیے اور اس کے بعد متوفیک چاہیے۔گویا کہ ان کے اعتقاد کے موافق خد تعالیٰ کو غلطی لگی۔اس نے کہنا تو یہ تھا