فج عمیق
اور
یا تیک من کل فج عمیق
اور پھر فرمایا
لا تصعر لخلق اﷲ ولا تسئم من الناس
یعنی اب وقت آگیا ہے کہ تو لوگوں میں شناخت کیا جاوے اور تیری مدد کی جاوے۔تیرے پاس دور دور راہوں سے لوگ آئیں گے اور دور دراز جگہوں سے تجھے تحائف اور مالی نصرتیں آئیں گی۔
اور پھر فرمایا کہ تیرے پاس کثرت سے مخلوق آئے گی،اس لیے تو تحمل سے ان کو قبول کرنا اور ان کی کثرت سے تھک نہ جانا۔
غرض اس قسم کے بہت سے الہامات ہیں جو نہ صرف عربی زبان میں ہوئے بلکہ فارسی میں ہوئے۔اردو میں ہوئے اور انگریزی میں بھی ہوئے جس کو میں جانتا بھی نہیں اور ایک لمبا سلسلہ ان الہامات اور پیشگوئیوں کا چلا گیا ہے اور جہاں براہین ختم ہوتی ہے وہاں یہ الہام ہوا:
’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا
اسے قبول کرے گا اور بڑے زورآور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کریگا‘‘
مجھے حیرت آتی ہے جب میں ان لوگوں کے منہ سے سنتا ہوں کہ کوئی نشان دکھائو۔ان نشانات پروہ غور نہیں کرتے اور ان کو حقیر سمجھتے ہین افسوس! اور اور نشان مانگتے ہیں۔میں یقین کرتا ہوں کہ خد اتعالیٰ قادر ہے۔وہ نشان پر نشان دکھا رہا ہے،لیکن یہ دانشمندی اور تقویٰ کا طریق نہیں ہے کہ پہلے نشانوں کو چھوڑ دیا جائے۔ان نشانوں کو سر سری نظر سے نہ دیکھو۔مولوی محمد حسین صاحب وہ شخص ہیں کہ ان سے بڑھ کر کسی نے عداوت کا نمبر نہیں لیا۔اُنہوں نے بنارس تک پھر کر کفر کا فتویٰ حاصل کیا۔اور ہر قسم کی مخالفت میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اب باوجود اس مخالفت کے اس کو قسم دیکر پوچھو کہ جب تم نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا اور یہ پیشگوئیاں اور نشان اس میں موجود تھے۔اس وقت ہمارا کیا حال تھا۔کہانتک میری شہرت تھی اور کس قدر لوگوں کو تعلق تھا۔اور کیا اب ان لہامات کے موافق یہ نسانات جو پورے ہوئے ہیں آپ بنائے گئے ہیں؟اس وقت موجود تھے یا نہیں؟اور انہوں انے پڑھے تھے یا نہیں, اگر پڑھے تھے تو پھر سچ سچ کہو کہ ایسے زمانہ میں جب یہ دعا سکھاتا ہے
رب لا تذرنی فرد اوانت خیر الوارثین (الانبیاء : ۹۰)
اور اس میں آپ گواہی دیتا ہے کہ میں اکیلا ہوں۔وہ الہامات جو جماعت کی ترقی اور میری قبولیت کے متعلق ہیں عظیم الشان نشان ہیں یا نہیں؟ اگر تعصب اور سخت دل مانع نہ ہو تو اقرار کرانا پڑے گا۔
پھراسی براہین میں یہ بھی موجود ہے کہ علماء مخالفت کریں گے کہ ترقی نہ ہو،لیکن میں ترقی دوں گا۔