درجات ہیں اور ہر درجہ پر برکت ملتی ہے،لیکن ان میں باہم فرق ضرور ہوتا ہے۔دیکھو اس وکت آفتاب کی روشنی ہے۔آنکھیں کھلی ہیں ہر ایک چیز دور و نزدیک کی صاف اور واضح نظر آتی ہے۔جب آفتاب کی سلطنت ختم ہو جائے گی تو رات آئے گی۔اس وقت عالم ہی اور ہوگا؛ اگر چہ اس وقت چاند یا ستاروں کی روشنی ہوگی مگر ان روشنیوں میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔ایسا ہی ایمان کے مراتب میں فرق صریح ہے۔ایمان بھی ایک روشنی ہے جس جس درجہ پر ایمان پہنچتا ہے اسی مرتبہ کے موافق روشنی اور پھل پاتا ہے جو چاہت اہے کہ عمر زیادہ ہو اور اس قہری نشان میں ایک امتیاز پیدا ہو کرے ا سکو لازم ہے کہ وہ کام الایمان ہو اور اپنے وجود کو قابل قدر بناوے اور اس کی یہی صورت ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچاوے اور دین کی خدمت کرے؛ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد : ۱۸)
یہ خوب یاد رکھو کہ عمر کھانے پینے سے لمبی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی اصل راہ وہی ہے جو میں نے بین کی ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو صرف کھناے پینے کو ہی زندیگ کی غرض و غایت سمجھتے ہیں؛ حالانکہ زندگی کی یہ غرض نہیں۔سعدی کہتا ہے ؎
خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است
تو معتقد کہ زیستن از بہرِ خوردن است
جب انسان کا ایک اصول ہو جاوے کہ زیستن از بہر خوردن است۔اس وقت اس کی نظر خد اپر نہیں رہتی بلکہ وہ دنیا کے کاروبار اور تجارت ہی میں منہمک ہو جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کی طرف توجہ اور رجوع کا خایل بھی نہیں رہتا۔اس وکت اس کی زندگی قابل قدر وجود نہیں ہوتی۔ایسے لوگوں کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
قل ما یعبو ابکم ربی لو لا دعاو کم (الفرقان : ۷۸)
یعنی میرا رب تمہاری پروا کیا رکھتا ہے۔اگر تم اس کی بندگی نہ کرو۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اس ملک میں ہیضہ کی خطرناک و با پڑی تھی۔اس سے پہیل اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ یہ نظارہ دکھایا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑا میدان ہے اور اس میں ایک بہت بڑی لمبی نالی ہے۔جس پر قصابوں نے بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور چھریان اُن کی گردنون پر رکھی ہوئی ہیں۔وہ آسمان کی طرف منہ کرکے دیکھ رہے ہیں گویا آسمانی حکم کا انتظار کرتے ہیں ۔میں پاس ہی ٹہل رہا ہوں اتنے میں مَیںنے یہ آیت پڑھی
قل ما یعبو ابکم ربی لو لا دعاو کم (الفرقان : ۷۸)
یہ آیت سنتے ہی انہوں نے چھریاں پھیردیں اور وہ بھیڑیں تڑپنے لگیں۔اُن کو تڑپتے دیکھ کر وہ قصاب بولے