کہ میں قہری نشان دکھائوں گا اور وعدہ دیا گیا کہ وہ نشان تلوار کے ذریعہ ظاہر ہوگا۔اب صاف ثابت ہے کہ وہ عذاب کافروں کے واسطے تھا، مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان جنگوں میں (جو قہری نشان کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے) صحابہؓ بھی شہید ہوئے۔اب کیا کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ صحابہؓ جو شہید ہوئے تھے معاذ اﷲ وہ تلوار اُن کے لیے بھی عذاب تھی؟ ہرگز نہیں بلکہ صحابہؓ کی شہادت تو قوم کی ترقی اور فتوخات کا باعث ہوئی۔صحابہؓ کی قوم بڑھی اور بالمقابل مخالفوں کا نام و نشان مٹ گیا اور ستیانا س ہو گیا۔اب کوئی پتہ دے سکتا ہے کہ ابو جہل کی اولاد کہاں ہے؟ اس کی بیخ کُنی ہو گئی۔یہی مثال سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
اسی طرح پر اس میں شک نہیں کہ طاعون عذاب کی صورت میں نازل ہوا ہے۔اور اگر ہماری جماعت میں سے بعض آدمی طاعون سے فوت ہوئے ہیں تو اس پر شور مچانا یا اعتراض کرنا دانشمندی نہیں ہے بلکہ غور طلب یہ امر قرار دینا چاہیے کہ طاعون سے نقصان کس کا ہوا۔اور فائدہ کس کو پہنچا؟ میں یقینا کہتا ہوں کہ جب طاعون شروع ہوئی ہے اس وقت میری جماعت کی تعداد بہت تھوڑی تھی،مگر اس وقت دو لاکھ سے بھی یہ جماعت بڑھی ہوئی ہے اور یہ ترقی طاعون کے سبب سے بھی ہوئی ہے۔طاعون نے میری جماعت کو بڑھایا ہے اور مخالفوں کو گھٹی اہے۔مجھے وعدہ دیا گیا تھا کہ طاعون تیری ترقی کا موجب ہوگی۔سو اس وعدہ کے موافق یہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دو لاکھ تک بڑھی ہے،مگر مخالفوں کو تو دوہرا نقصان ہوا ہے۔کچھ اُن میں سے قبروں میں گئے اور کچھ ہمارے پاس آئے ہیں۔اگر ہمارا نقصان اس سے ہوت اتو یہ جماعت جو بہت ہی مختصر اور قلیل تھی بالکل تباہ ہو جاتی اور آج کوئی اس کو جاننے والا بھی نہ ہوتا۔ان واقعات کو مدِ نظر رکھ کر معترض کو چاہیے کہ دیکھے کیا یہ اعتراض کوئی شے ہے؟
طاعون کو خبر آج سے نہیں ۲۳ برس سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چی ہوئی ہے اور اس لیے یہ معمولی نظر سے دیکھنے کے قابل نہیں ہے، بلکہ یہ عظیم الشان قہری نشان ہے۔
غرض طاعون نے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا بلکہ فائدہ ہی دیا ہے۔اس کے سات ہی میں یہ بھی ضرور کہتاہوں کہ ایمان کے طبقات ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔اس لیے ان طبقات کے لحاظ سے جو شخص کا مل الایمان ہے وہ نافع الناس وجود ہے۔تبلیغ دین کرنے والا ہے۔وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قدر ہے وہ طاعون سے ضرور بچایا جاوے گا۔بعض آدمی جن کی ایمانی حالت کمزور ہوتی ہے اور وہ اس درجہ پر نہ پہنچے ہوئے ہوں،جہاں اﷲ تعالیٰ کسی کو مومن کہت اہے اور ان کی ضرورت بھی کم ہو پھر ان میں سے اگر کوئی فوت ہو جاوے تو اس میں کیا حرج ہے۔میں یہ خوب جانت اہوں کہ ایمان کے