مومن ہوتے ہیں۔ایک تو ظالم لنفسہ ہیں۔ان میں گناہ کی آلائش موجود ہوتی ہے۔بعض میانہ رو اور بعض سرا سر نیک ہیں۔اب ہمیں کیا معلوم ہے کہ کون کس درجہ اور مقام پر ہے۔ہر ایک شخص کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ الگ معاملہ ہے۔جیسا کوئی اس سے تعلق رکھتا ہے ویسا ہی وہ اس سے معاملہ کرتا ہے۔جو لوگ کامل الایمان ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ اُسے امتیاز دے گا،کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان ایک فرقان رکھا جاتا ہے۔ قرآن شریف میں مومن سے یہ مراد نہیں ہے کہ صرف زبان تک ہی اس کی قیل و قاسل محدود ہوا ور صبح وہ ایمان کا کام کرے،تو شام کو کفر کا کرے۔ایک لقمہ وہ تریاق کا کھالیتا ہے تو دوسرا زہر کا بھی کھالیتا ہے۔ایسے شخص کو وہ فرقان اور امتیاز جو مومن کے لیے مقرر کیاگیا ہے نہیں دیا جاتا۔تم خود ہی سوچ لو کہ وہ مریض جو پرہیز نہیں کرتا ہے وہ خواہ اس کو کیسے ہی شفا بخش نسخے دیئے جاوین اور کتنے ہی مجرب کیوں نہ ہوں۔لیکن اگر وہ پرہیز نہیں کرتا تو وہ نسخے اس کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ پس یہی حال بیعت کا ہے ۔اگر کوئی شخص بیعت تو کرتا ہے، لیکن شرائط بیعت کو پورا نہیں کرتا اور اپنے اندر پاک تبدیلی جو بیعت کا اصل مقصد ہے نہیں کرتا وہ اپنے لیے وبالِ جان ہو جاتا ہے۔ہاں کامل الایمان اکسیر ہے۔اس کے ساتھ فرقان رکھا جاتا ہے۔اگر یہ امتیاز نہ ہوتا تو دنیا تباہ ہو جاتی اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان مشکل ہو جاتا۔اس قسم کے نشانوں سے ہی اﷲ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان پیدا ہوتا ہے۔ احمدی جماعت اور طاعون اب میں پھر اس اعتراض کی طرف توجہ کرتا ہوں جو کہتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض آدمی طاعون س مرے ہیں۔اس بات کوخوب غورس ے یاد رکھو کہ صحابہؓ میں سے جو بعض طاعون سے شہید ہوئے وہ اُن کے لیے عذاب نہ تھی بلکہ صحابہؓ کا گروہ بڑھا اور ان کے لیے موجبِ شہادت ہوئی۔دوسروں کے لیے وہی طاعون تباہی اور بربادی کا باعث ہوئی یہی فرق ہے۔اگر کسی مومن کو طاعون ہو جاوے وہ اس کے لیے شہادت ہے اور دوسروں کے لیے تباہی کا موجب۔بایں ہمہ جیسا میں نے پہیل بیان کیا ہے۔مومن اور غیر مومن میں ایک امر فارق ہوتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔مومن کے ساتھ ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس کو ایک بیّن امتیاز عطا کرتا ہے اور اس کو تباہ کرنا نہیں چاہتا۔اسکی وہی مثال ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر بھی مصیبت آتی ہے اور دوسروں پر بھی جو ان کے مخالف ہوتے ہیں انبیاء علیہم السلام بڑھتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں اور دوسرے تباہ اور ذلیل ہوتے ہیں۔پس دہریوں کی طرف دھوکا مت کھائو۔وہاں اور رنگ ہے، اور یہان اور رنگ ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی خوب غور سے سنو کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں لڑائیاں ہوتی تھیں اور وہ لڑائیاں عذاب کے رنگ میں تھیں،کیونکہ کافر بار بار سوال کرتے تھے کہ آپ ہمیں قہری نشان اور معجزہ دکھائو کہ ہم پر پتھر برسیں انکے بار بار کے سوالات پر ان کو وعدہ دیا گیا