ہیں جن میں سے ایک آسمان پر ظاہر ہوگا اور دوسرا زمین پر۔ آسمان کا نشان تو یہ تھا کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں مقرر تاریخوں پر سورج اور چاند گرہن ہوگا؛ چنانچہ کئی سال گذرے یہ نشن پورا ہو گیا اور نہ صرف اس ملک میں بلکہ دوسری مرتبہ امریکہ میں بھی پوراہو۔ دوسرا نشان یہی طاعون کا نشان تھا جو زمینی ہے۔یہ نشان بدن پر لرزہ ڈال دینے والا نشان ہے ۔کئی سال سے یہ بلا اس مُلک میں نازل ہو رہی ہے مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ ابھی تک غفلت اور بدمستی اسی طرح ترقی پر ہے۔میں جاتنا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کی کتابوں سے معلوم ہے کہ آخر اس طاعون کی اس قدر شدت ہو اجئے گی کہ دس میں سے سات مر جائیں گے اور بعض بستیاں بالکل تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔جہانتک اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ابھی بہت خطرناک دن آنے والے ہیں۔اس لیی میں ہر ایک کو جو سنتا ہے کہتا ہوں کہ دیکھو اس وقت ہر ایک نفس کو چاہیے کہ اپنے نفس، اپنے بیوی بچوں اور دوستوں پر رحم کرے۔میں خوب جاتنا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر اپنا فضل کر دیتا ہے اور یہ عذاب ٹل سکتا ہے۔پس چاہیے کہ ہر شخص کوشش کرے اور سچی توبہ ارو پاک تبدیلی کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے دعائیں مانگے۔ ایک اعتراض کا جواب بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ میں بھی بعض آدمی طاعون سے مر گئے ہیں۔ایسے معترضین کو یاد رکھنا چاہیے کہ موت تو ہر نفس کے لیے مقرر ہے اور یاک نہ ایک دن ب کو مر جانا ہے اور طاعون سے صحابہؓ میں سے بھی بعض شہید ہو گئے تھے۔غرض موت سے تو چارہ نہیں۔امیر۔غریب،ہندو،مسلمان،زن ومرد سب مرتے ہیں۔لیکن کسی موت پر اتنا رحم نہیں آتا جیسا اس موت پر کہ گھر کا گھر تباہ ہو جائے اور قُفل لگ جاوے۔اس لیے اول نسبت قائم کرو کہ ایسی موتیں کن لوگوں میں ہوئی ہیں۔ اس کے سوا یہ بھی یاد رکھو کہ ہماری جماعت میں داخل ہونے والوں کا صحیح علم کہ ان کے ایمان کس درجہ تک ہیں اﷲ تعالیٰ ہی کو ہے۔اب دو لاکھ سے بھی زیادہ جماعت ہے ہمیں علم نہیں کہ کس حد تک کس کا ایمان ہے؛ البتہ قیاسی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ بعض کامل الایمان ہیں اور بعض اوسط درجہ کا ایمان رکھتے ہیں اور بعض ابھی ناقص درجہ پر ہیں۔ مومنوں کے تین درجے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے منہم ظالم لنفسہ ومہھم مقتصد و منہم سابق بالخیرات (فاطر : ۳۳) یعنی تین قسم کے