چھوڑ دینا چاہیے۔پس اس نے چھوڑ دیا اور ملامتی فرقہ کا سا طریق اختیار کر لیا۔مسلمانوں میں ملامتی ایک فرقہ ہے جو اپنی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور بدیوں کو ظاہر کرتا ہے تاکہ لوگ انہیں برا کہیں۔اسی طرح پر وہ اپنی نیکیوں کو چھپانے لگا اور اندر ہی اندر اﷲ تعالیٰ سے سچی محبت کرنے لگا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھا ہے کہ جس کوچہ سے گذرتا عام لوگ اور بچے بھی اُسے کہتے کہ بڑا نیک ہے۔ولی ہے۔بزرگ ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنا مُشک اور عطر کی طرح ہے جو کسی طرح سے چھُپ نہیں سکتا۔یہی تاثیریں ہیں سچی توبہ میں۔جب انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔پھر اُسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔خدا اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے اور وہ تقدیر جو شامتِ اعمال سے اس کے لیے مقرر ہوئی ہے،دور کی اجتی ہے۔اس امر کے دلائل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ انسان اپنی اس مختصر زندگی میں بلائوں سے محفوظ رہنے کا کس قدر محتاج ہے اور چاہتاہے کہ ان بلائوں اور وبئوں سے محفوظ رہے جو شامتِ اعمال کی وجہ سے آتی ہیں ارو یہ ساری باتیں سچی توبہ سے حاصل ہوتی ہیں۔پس توبہ کے فوائد میں سے ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کا حافظ اور نگران ہو جاتا ہے۔اور ساری بلائوں کو خد ادور کر دیتاہے اور اُن منصوبوں سے جو دشمن اس کے لیے تیار کرتے ہیں اُن سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کا یہ فضل اور برکت کسی سے خاص نہیں بلکہ جس قدر بندے ہیں خدا تعالیٰ کے ہی ہیں۔اس لیے ہر ایک شخص جو اُس کی طرف آتا ہے اور اس کے احکام اور اوامر کی پیروی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ہوگا جیسے پہلا شخص توبہ کر چکا ہے۔وہ ہر ایک سچے توبہ کرنے والے کو بلائوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔پس یہ توبہ جو آج اس وقت کی گئی ہے یہ مبارک اور عید کا دن ہے۔اور یہ عید ایسی عید ہے جو کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔ایسا نہ ہو کہ تھوڑے سے خیال سے ماتم کا دن بنادو۔عید کے دن اگر ماتم ہو تو کیسا غم ہوگا ہے کہ دوسرے خوش ہوں اور اس کے گھر ماتم ہو۔موت تو سب کو نا گوار معلوم ہوتی ہے۔لیکن جس کے گھر عید کے دن موت ہو وہ کس قدر ناخوشگوار ہوگی۔
قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان ایک نعمت کی قدر نہیں کرتا وہ ضائع ہو جاتی ہے۔دیکھو جن چیزوں کی تم قدرکرتے ہو اُن کو صندوقوں میں بڑی حفاظت سے رکھتے ہو۔اگر ایسا نہ کرو تو وہ ضائع ہو جاتی ہے۔اسی طرح اس مال کا جو ایمان کا مال ہے چورشیطان ہے۔اگر اس کو بچا کر دل کے صندوقوں میں احتیاط سے نہ رکھو گے توچور آئے گا اور لے جائے گا۔یہ چور بہت ہی خطرناک ہے۔دوسرے چور اندھیری راتوں میں آکر نقب لگاتے ہیں وہ اکثر پکڑے اجتے ہیں اور سزا پاتے ہیں۔لیکن یہ چور