ہے کہ وہ اس کی سوزش سے حصہ لے اور اسے محسوس کرے اور اُسے دُکھ پہنچے۔لیکن جو ایک باغ میں جاتا ہے۔یقینی امر ہے کہ اس کے پھلوں اور پھولوں کی خوشبو سے اور اس خوبصورت نظازہ کے مشاہدہ سے لذت پاوے۔ شامتِ اعمال کی وجہ سے آنیوالی بلائوں کا علاج اب واضح رہے کہ جس حال میں وہ بلائیں جو شامتِ اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔اور جن کا نتیجہ جہنمی زنگی اور عذابِ الٰہی ہے ان بلائوں سے جو ترقی درجات کے طور پر اخیار و ابرار کو آتی ہیں الگ ہیں۔کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے جو انسان اس عذاب سے نجات پاوے۔ہان اس عذاب اور دُکھ سے رہائی کی بجز اس کے کوئی تجویز اور علاج نہیں ہے کہ انسان سچے دل سے توبہ کرے۔جبتک سچی توبہ نہیں کرتا،یہ بلائیں جو عذابِ الٰہی کے رنگ میں آتی ہیں اس کا پیچھانہیں چھوڑ سکتی،کیونکہ اﷲ تعالیٰ اپنے قانون کو نہیں بدلتا جو اس بارے میں اس نے مقرر فرما دیا ہے۔ ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر و اما بانفسہم (ارعد : ۱۲) یعنی جبتک کوئی قوم اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتی۔اﷲ تعالیٰ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔ اﷲ تعالیٰ ایک تبدیلی چاہتا ہے اور وہ پاگیزہ تبدیلی ہے۔جبتک وہ تبدیلی نہ ہو عذابِ الٰہی سے رستگاری اور مخلصی نہیں ملتی۔یہ اﷲ تعالیٰ کا ایک قانون اور سنت ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی،کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ہی یہ فیصلہ کر دیا ہے۔ ولن تجد لسنۃ اﷲ تبدیلا (الاحزاب : ۶۳) سنت اﷲ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کیلئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دُکھوں سے رہائی پائے جو شامتِ اعمال نے ا سکے لیے تایر کئے ہیں۔اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے ان اﷲ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر و اما با نفسہم میںکیا ہے۔اسکے عذاب اور دُکھ کو بدلادیتا ہے اور دُکھ کو سُکھ سے تبدیل کر دیت اہے۔جب انسان کے اندر تبدیلی کرتا ہے، تو اسکے لیے ضرور نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بھی دکھاتا پھرے۔وہ رحیم کریم خدا جو دلوں کا مالک ہے۔اس کی تبدیلی کو دیکھ لیتا ہے کہ یہ پہلا انسان نہیں ہے اس لئے وہ اس پر فضل کرتا ہے۔تذکرۃ الولیاء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نماز روزہ اور دوسرے اشغال اذکار سے ریا کرتا تھا کہ لوگ اسے ولی سمجھیں۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام لوگ اُسے ریاکار سمجھے تھے۔یہان تک کہ بچے بھی جس راستہ سے وہ گذرتا تھا ا سکو ریا کار اور فریبی کہا کرتے تھے۔ایک وقت تک اس کی حالت ایسی ہی رہی۔آخر اُس نے سوچاکہ اس طریق سے کوئی فائدہ تو نہیں ہوا،بلکہ حالت بد تر ہی ہوئی ہے اس لیے اس کو