ریئس : جناب تعجب ہی ہے کہ خدا کے ہوتے یہ غضب ہو رہا ہے۔
حضرت اقدس : یہ خدا تعالیٰ کی باتیں ہیں ان میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ خداتعالیٰ نے تو خود دنیا پر یہ غضب نازل کیا ہے۔ اگر لوگ خداتعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتے تو اس قدر شرارتیں جو زمین پر ہو رہی ہیں۔ نہ کرتے اور خداتعالیٰ کے غضب سے ڈرجاتے، مگر آپ دیکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا اقرار کر کے پھر دنیا پر ظلم اور فساد ہو رہا ہے اور خداتعالیٰ کے حکموں کی ہرگز پابندی نہیں کی جاتی۔ تو یہ تو ایک قسم کی خداتعالیٰ کے ساتھ بھی ہنسی ہے پھر خداتعالیٰ اس کو کب پسند کر سکتاہے۔ اب یہ غضب آیا ہے جو دنیا کو سیدھا کرے گا۔ خود اسی نے بھیجا ہے۔ وہ اپنے اسرار کو آپ ہی جانتا ہے۔ ہم لوگوں کو اس کی قدرتوں میں دخل دینے کا کیا حق ہے۔جب وقت آجائے گا وہ خد رحم فرمائے گا اور اس عذاب کو اٹھالے گا۔وہ ظالم نہیں ہے وہ توارحم الراحمین ہے۔
ریئس : حضور اب تو رحم ہونا چاہیے۔ آپ ہی کچھ کریں۔
حضرت اقدس : میں دیکھتا ہوں کہ ابھی دنیا کی اصلاح ہونی ضروری ہے ۔ ہم تو خداتعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے ہر ایک فعل کو سرسرا حکمت سمجھتے ہیں۔ یہ عذاب جو اس نے نازل کیا ہے یہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ لوگوں کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کو تکلیف نہیں ہے۔ اگر وہ تکلیف کو محسوس کر لیتے تو میں دیکھتا کہ ان میں تبدیلی شروع ہو جاتی مگر ایسا نہیں ہے۔ رہا ہمارا رحم۔ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم اس کی قضاو قدر پر ہر طرح راضی ہیں اور اسے دیکھتے ہیں؛ البتہ جب وہ خود ہمارے دل میں یہ بات ڈالے گا تو ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری دعائوں کو سُن لے گا اور سب کچھ کر دیگا۔ فی الحال تو جو ہو رہا ہے اس کی عین مرضی کے موافق ہے۔ جب تک وہ پسند کرے گا ہوتا رہے گا۔ اصل علاج یہی ہے کہ خداتعالیٰ سے صلح کی جاوے۔
اس تقریر کے بعد ریئس مذکور اپنے احباب کو لے کر نیازمندی سے سلام کرکے رخصت ہوا۔
طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے زیارتیں لیکر نکلنا
لاہور میں جو لوگ طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے نماز پڑھنے کے واسطے زیارتیں لے کر نکلتے ہیں۔ ان کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس پر فرمایا:
جو لوگ اب باہر جاکر نمازیں پڑھتے ہیں اور زیارتیں نکالتے ہیں وہ خداتعالیٰ کے ساتھ پوری صفائی نہیں کرتے۔ سچی تبدیلی کا ارادہ نہیں معلوم ہوتا؛ ورنہ پھر وہی شوخی، بیبا کی کیوں نظر آرہی ہے۔ اگر سچی تبدیلی