پس خوب یاد رکھو کہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے انبیاء اور دوسرے اخیار و ابرار کی بلائیں محبت کی راہ سے ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کو ترقی دیتا جاتا ہے اور یہ بلائیں وسائل ترقی میں سے ہیں،لیکن جب مفسدوں پر آتی ہیں تو اﷲ تعالیٰ اُن کو اس عذاب سے تباہ کرنا چاہتا ہے۔وہ بلائیں ان کے استیصال اور نیست و نابود کرنے کا ذریعہ ہو جاتی ہیں۔یہ ایسا فرق ہے کہ دلائل کا محتاج نہیں ہے،کیونکہ جب اچھے آدمی جو اﷲ تعالیٰ کو مقدم کر لیتے ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اﷲ تعالیٰ سے محبت کیوں کرتے ہیں۔بہشت اور دوزخ ان کے دل میں نہیں ہوتا اور نہ بہشت کی خواہش اور دوزخ کا ذکر اُن کو اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کا محرک ہوتا ہے بلکہ وہ طبعی جوش اور طبعی محبت سے اﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے اور اس کی اطاعت میں محو ہوتے ہیں۔ان پر جب کوئی بلا آتی ہے تو وہ خود محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ از راہِ محبت ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ان بلائوں کے ذریعہ ایک چشمہ کھولا جاتا ہے جس سے وہ سیراب ہوتے ہیں اور ان کا دل لذت سے بھر جاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی محبت ایک فوارہ کی طرح جوش مارنے لگ جاتی ہے۔تب وہ چاہتے ہیں کہ یہ بلا زیادہ ہو تا کہ قربِ الٰہی زیادہ ہو اور رضا کے مدارج جولد طے ہوں۔غرض الفاظ وفا نہیں کرتے جو اس لذت کو بیان کر سکیں جو اخیار و ابرار کو ان بلائوں کے ذریعہ آتی ہے۔یہ لذت تمام سفلی لذتوں سے بڑھی ہوئی ہے اور فوق الفوق لذت ہوتی ہے۔یہ مصیبت کیا ہے۔ایک عظیم الشان دعوت ہے جس میں قسم قسم کے انعام و اکرام اور پھل اور میوے پیش کیے جاتے ہیں۔خدا اس وقت قریب ہوتا ہے۔فرشتے ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے مکالمہ کا شرف عطا کیا جاتا ہے اور وحی اور الہام سے اس کو تسلی اور سکینت دی جاتی ہے۔لوگوں کی نظر میں یہ بلائوں اور مصیبتوں کا وقت ہے مگر دراصل اس وقت اﷲ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض کی بارش کا وقت ہوتا ہے۔سفلی اور سطحی خیال کے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ بلائوں اور غموں ہی کا وقت ہے جس میں مزا آتا ہے اور راحت ملتی ہے کیونکہ خدا جو انسان کا اصل مقصود ہے۔اس وقت اپنے بندے کے بہت ہی قریب ہوتا ہے ۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ قرآن جو دیا گیا ہے ۔غم کی حالت میں دیا گیا ہے۔پس تم بھی اس کو غم کی حالت میں پڑھو۔
غرض میں کہانتک بیان کروں کہ ان بلائوں میں کیا لذت اور مزا ہوت اہے اور عاشق صادق کہانتک ان سے محفوظ ہوت اہے۔مختصر طور پر یاد رکھو کہ ان بلائوں کا پھل اور نتیجہ جو ابرار اور اخیار پر آتی ہیں جنت اور ترقی درجات ہے ار وہ بلائیں ارو غم جو مفسدوں اور شریروں پر آتے ہیں۔ان کی وجہ شامتِ اعمال اور تاریک زندگی ہے اور اس کا نتیجہ جہنم اور عذابِ الٰہی ہے۔پس جو شخص آگ کے پاس جاتا ہے ضرور