اصل مرکز سے جو حقیقی راحت کا مرکز ہے۔ہٹ اجتا ہے،اس لیے تکلیف کا آنا اس حالت میں اس پر ضروری ہے۔ یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء اور راستباز پر بھی بعض اوقات بلائیں آجاتی ہیں اور مصائب اور شدائد میں ڈالے جاتے ہیں لیکن یہ گمان کرنا کہ وہ مصائب اور بلائیں کسی گناہ کی وجہ سے آتی ہیں۔خطر ناک غلطی اور گناہ ہے۔ان بلائوں میں جو خدا کے راستبازوں اور پیارے بندوں پر آتی ہیں او ان بلائوں میں جو خدا تعالیٰ کے نفرمانوں اور خطاکاروں پر آتی ہیں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے کہ ان کے اسباب بھی مختلف ہیں۔نبیوں اور راستبازوں پر جو بلائیں آتی ہیں اُن میں ان کو ایک صبر جمیل دیا جاتا ہے جس سے وہ بلا اور مصیبت ان کے لیے مُدرِک الحَلَاوت ہو جاتی ہیں۔وہ اس سے لذت اُٹھاتے ہیں اور رحانی ترقیوں کے لیی ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔کیونکہ ان کے درجات کی ترقی کے لیے ایسی بلاجوں کا آنا ضروری ہے جو ترقیات کے لیے زینہ کا کام دیتی ہیں۔جو شخص ان بلائوں میں نہیں پڑتا اور ان مصیبتوں کو نہیں اُٹھاتا وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کرسکتا۔ دنیا کے عام نظام میں بھی تکالیف اور مشقتوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں سے ہر ایسے شخص کو جو ترقی کا خواہاں ہے گذرنا پڑتا ہے،لیکن ان تکالیف اور شاقہ محنتوں میں باوجود تکالیف کے ایک لذت ہوتی ہے جو اُسے کشاں کشان آگے لیے جاتی ہے۔برخلاف اس کے وہ مصیبت اور تکالیف جو انسان کی اپنی بدکرداری کی وجہ سے اس پر آتی ہیں۔وہ مصیبت ہوتی ہے جس میں ایک درد اور سوزش ہوتی ہے،جو اس کی زندگی اس کے لیے وبالِ جان کر دیتی ہے وہ موت کو ترجیح دیتاہے مگر نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ مرکر بھی ختم نہیں ہوگا۔ غرض ان بلاجوں کے نزول میں ہمیشہ سے قانونِ قدرت یہی ہے کہ جو بلائیں شامتِ اعمال کی وجہ سے آتی ہیں وہ الگ ہیں اور خد اکے راستبازوں اور پیغمبروں پر جو بلائیں آتی ہیں وہ ان کی ترقی درجات کے لیے ہوتی ہیں۔بعض جاہل جو اس راز کو نہیں سمجھتے وہ جب بلائوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس بلا سے فائدہ اُٹھاویں اور کم از کم آئندہ کے لیے مفید سبق حاصل کریں اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کریں کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم پر مصیبت آئی تو کیا ہوا نبیوں اور پیغمبروں پر بھی تو آجاتی ہیں؛ حالانکہ ان بلائوں کو انبیاء کی مشکلات اور مصائب سے کوئی نسبت ہی ہیں ۔جہالت بھی کیسی بُری مرض ہے کہ انسنا اس میں قیاس مع الفارق کر بیٹھتا ہے۔یہ بڑا دھوکہ واقع ہوت اہے جو انسان تمام انبیاء کی مشکلات کو عام لوگوں کی بلائوں پر حمل کرلیتا ہے۔