ہو اور ہلاکت اور موت ہر طرف سے اس یک قریب ہو۔عذابِ الٰہی اس کے کھاجانے کو تیار ہو کہ وہ یکا یک ان بدیوں اور بدکاری٭ن سے جو بعد اور ہجر کا موجب تھیں توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف آجاوے وہ وقت خدا تعالیٰ کی خوشی کا ہوت اہے اور آسمان پر ملائکہ بھی خوشی کرتے ہیں،کیونکہ اﷲ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ تباہ وار ہلاک ہو،بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اگر اس کے بندہ سے کوئی غلطی اور کمزوری ظاہر ہوئی ہے پھر بھی وہ توبہ کر کے امن میں داخل ہو۔پس یاد رکھو کہ وہ دن جب انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے ۔بہت ہی مبارک دن ہے اور سب ایام سے افضل ہے۔کیونکہ وہ اس دن نئی زندگی پاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے قریب کیا جاتا ہے اور اس لحاظ سے یہ دن (جس میں تم میں سے بہتوں نے اقرار کیا ہے کہ میں آج اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ جہانتک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتارہوں گا) یوم توبہ ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ایک شخص کے جس نے سچے دل سے توبہ کی ہے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور وہ
اتا ئب من الذنب کمن لا ذنب لہ
کے نیچے آگیا ہے۔گویا کہہ سکتے ہیں کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔مگر ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ حقیقی پاکیزگی اور سچی طہارت کی طرف قدم بڑھایا جاوے اور یہ توبہ نری لفظی توبہ ہی نہ بلکہ عمل کے نیچے آجاوے۔یہ چھوٹی سے بات نہیں ہے کہ کسی کہ گناہ بخش دیئے جاویں،بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے۔
دیکھو! انسانوں میں اگر کوئی کسی کا ذرا سا قصور اور خطا کرے تو بعض اوقدات اس کا کینہ پشتوں تک چلا جاتا ہے وہشخص نسلاً بعد نسل تلاشِ حریف میں رہتا ہے کہ موقعہ ملے تو بدلہ لای جاوے،لیکن اﷲ تعالیٰ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔انسنا کی طرح سخت دل نہیں جو ایک گناہ کے بدلے میں کئی نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑتا اور تباہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ رحیم کریم خدا ستر برس کے بناہوں کو ایک کلمہ سے ایک لحظہ میں بخش دیتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ وہ بخشنا ایسا ہے کہ اس کا فائدہ کچھ نہیں ۔نہیں وہ بخشنا حقیقت میں فائدہ رساں اور نفع بخش ہے اور اس کو وہ لوگ خوب محسوس کرسکتے ہیں جنہوں نے سچے دل سے توبہ کی ہو۔
نزولِ بلا کا فلسفہ
بہت سے لوگ اس امر سے غافل ہیں کہ انسان پر جو بلائیں آتی ہیں وہ بلاوجہ یونہی آجاتی ہیں یا اُن کے نزول کو انسان کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسا خیال بالکل غلط ہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ ہر بلا جو اس زندگی میں آتی ہے یا جو مرنے کے بعد آئے گی جس کا ہمیں یقین ہے۔اس کی اصل جڑ گناہ ہی ہے۔کیونکہ گناہ کی حالت میں انسان اپنے آپ کو اُن انوار اور فیوض سے جو خد اتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں پرے ہٹا دیتا ہے اور اس