رکھی ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ یہ دن بیشک اپنی اپنی جگہ مبارک اور خوشی کے دن ہیں۔لیکن ایک دن ان سب سے بھی بڑھ کر مبارک اور خوشی کا دن ہے، مگر افسوس سے دیکھا جاتاہے کہ لوگ نہ تو اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور نہ اس کی تلاش ؛ ورنہ اگر اس کی برکات اور خوبیوں سے لوگوں کو اطلاع ہوتی یا وہ اس کی پروا کرتے تو حقیقت میں ہو دن ان کے لیے بڑ ا ہی مبارک اور خوش قسمتی کا دن ثابت ہوتا اور لوگ اُسے غنیمت سمجھتے۔ وہ دن کونسا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بد اعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اُسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کونسا خوشی اور عید کا دن ہوگ اجو اسے ابدی جہنم اور ابدی غضبُ الٰہی سے نجاب دیدے۔توبہ کرنے والا گنہگار جو پہیل اﷲ تعالیٰ سے دور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا۔اب اس کے فضل سے اُس کے قریب ہوتا اور جہنم اور عذاب سے دور کای جاتا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ان اﷲ یحب التوابین ویحب المتطھرین (البقرۃ : ۲۲۳) بیشک اﷲ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے،بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری شرط ہے؛ ورنہ نری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کر توتوں سے توبہ کر کے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ سچا عہدِ صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیی اپنا سر خم کر دے تو کیا شک ہیکہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بدعملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا۔بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پالیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔ تم خود قیاس کر سکتے ہو کہ ایک شخص جب کسی چیز کے حاصل کرنے سے بالکل مایوس ہو گیا ہے اور اس ناامیدی اور یاس کی حالت میں وہ اپنے مقصود کو پالے تو اسے کس قدر خوشی حاصل ہو گی۔اس کا دل ایک تازہ زندگی پائے گا۔یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔احادیث اور کتب سابقہ سے یہی پتہ لگتا ہے کہ جب انسان گناہ کی موت سے نکل کر توبہ کے ذریعہ نئی زندگی پاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی زندگی سے خوش ہوتا ہے ۔حقیقت میں یہ خوشی کی بات تو ہے ہی کہ انسان گناہوں کے نیچے دبا