پس اگر آسمان پر جانا کوئی فضیلت ہوسکتی تھی تو آنحضرت ﷺ اس سے کب باہر رہ سکتے تھے۔آخر یہ لوگ پچھتاویں گے کہ ان باتوں کو ہم نے کیوں نہ مانا۔یہ لوگ ایک سوار تو آنحضرت ﷺ کی ذات پر کرتے ہیں کہ ایک معجزہ آسمان پر جانے کا لوگوں نے مانگا مگر خدا نے آپ کی پروا نہ کی اور عیسیٰ کو یہ عزت دی کہ اُسے آسمان پر اٹھا لیا اور دوسرا حملہ خود خد اپر کرتے ہیں کہ اُس نے اپنی قوت خلق سے مسیح کو بھی کچھ دے دی جس سے تشابہ الخلق ہو گیا۔جواب دیتے ہیں کہ خد انے خود مسیح کو یہ قدرت دی تھی۔اے نادانو! اگر خدائی نے تقسیم ہونا تھا تو کیا اس کے حصہ گیر عیسیٰ ہی رہ گئے تھے۔آنحصرت ﷺ کو کیوں نہ حصہ ملا؎ٰ۔
اس قدر تقریر ہو چکی تھی کہ بعض جان نثاروں نے بہت وقت گذرجانے کی درخواست کی تاکہ آپ کی طبیعت کو زیادہ صدمہ نہ ہو اور سلسلہ تقریر ختم ہو جاوے؛ چنانچہ حضور نے دعا پر اُسے ختم کیا۔
۲۸؍اگست ۱۹۰۴ء
بمقام لاہور۔سات بجے صبح
(حضرت اقدس کی تقریر جو ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مجمع کے درمیان آپ نے فرمائی)
توبہ کا دن جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک ہے
سب صاحب یاد رکھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اسلام میں ایسے دن مقرر کئے ہیں کہ وہ دن بڑی خوشی کے دن سمجھے اجتے ہیں اور ان میں اﷲ تعالیٰ نے عجیب عجیب برکات رکھی ہیں۔منجملہ ان دنوں کے ایک جمعہ کا دن ہے۔یہ دن بی بڑا ہی مبارک ہے۔لکھاہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو جمعہ ہی کو پیدا کیا اور اسی دن ان کی توبہ منظور ہوئی تھی۔اور بھی بہت سی برکات اور خوبیاں اس دن کی ماثور ہیں۔ایسا ہی اسلام میں دو عیدیں ہیں۔ان دونوں دنوں کو بھی بڑی خوشی کے دن مانا گیا ہے اور ان میں بھی عجیب عجیب برکات