ساحرین موسیٰ کے لیے وہی لفظ آوے تو اس کے معنے موت کے ہوں،لیکن جب مسیح پر بولا جاوے تو اس کے معنے آسمان پر جانا کرتے ہیں۔یہ لوگ خدا کو کیا جواب دیویں گے۔کیا یہی اُن کی محبت آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہے اور یہ کیسی دلیری اور شوخی ہے۔آنحضرت ﷺ کا وجود مبارک جس کی دنیا کو ضرورت تھی وہ تو تیرہ سو برس گذرے کہ خاک میں دفن ہوا اورآپؐ تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہو جاویں اور مسیح ابتک آسمان پر۔کوئی بتلاوے کہ وہاں کیا کر رہا ہے۔اس کا وعدہ تھا کہ میں بنی اسرائیل کی طرف آیا ہوں اور کتنی قومیں بنی اسرائیل کی باقی تھیں کہ آسمان پر جا بیٹھا اور وعدہ بھی پورا نہ کیا اور پھر عقل ،نقل اور کتاب اﷲ کے برخلاف ہے۔یہ سب دلائل ہیں جو کہ ایک مومن کے لئے کافی ہیںاور بجز اس کے کہ عیسیٰ کو فوت شدہ مانا جاوے اور کوئی ذریعہ آنحضرت ﷺ کی عزت کو محفوظ رکھنے کا نہیں ہے میں تو اس شخص سے بہت خوش ہوں کہ جس نے کتاب حیاۃ النبی لکھی ہے اور اس میں یہ بھی لکھ اہے کہ جو شخص سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی پیغمبر کو زندہ کہے وہ کافر ہے کیونکہ آخر محبت کی کچھ بھی تو علامت چاہیی۔بعض نئے نئے لوگوں نے جو عیسائیوں میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔حضرت عمرؓ کو یہ بات کہی ہوگی کہ عیسیٰ ابتک زندہ ہے تب ہی تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر ہرگز یہ باورنہ کیا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں بلکہ ایسا کہنے والے کو قتل کرنے کے لیی آمادہ ہوئے۔آخر جب حضرت ابو بکرؓ نے آکر اس مسئلہ کو حل کیا کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں اور آنحضرت ﷺ بھی فوت ہوئے تب آپ کواعتبار آیا۔
اب عیسائیت کا اثر غالب آگیا ہے اور جو محبت مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ سے چاہیے تھی وہ نہیں رہی۔ہزاروں رسالے اور اخبار نکالتے ہیں۔لیکن کسی نے آجتک آنحضرت ﷺ کی حیات کا رسالہ نہ کالا۔پس اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپؐ کی عزت کو ظاہر کرے۔ہم آنحضرت ﷺ کو ایک نبی مانتے ہیں اور سب سے شرف جانتے ہیں اور ہرگز گوارہ نہیں کرتے کہ کوئی عمدہ بات کسی اور کی طرف منسوب کی جاوے ۔جب کفار نے آنحضرت ﷺ سے یہی معجزہ طلب کیا کہ آسمان پر چڑھ کر دکھاویں تو آپؐ نے فرمایا سبحان ربی اور انکار کر دیا۔دوسری سرف حضرت مسیح کو خد اآسمان پر لے اجوے،یہ کیسے ہو سکت اہے۔ہم قرآن سے کیا بلکہ کل کتابوں سے دکھا سکت یہیں کہ سج قدر اخلاق اور خوبیان کل انبیاء میں تھیں وہ سب کی سب آنحضرت ﷺ میں جمع تھیں۔
کان فضل اﷲ علیک عظیما (النساء : ۱۱۴)
اسی کی طرف اشارہ ہے۔