سے آنے سے تنگ آکر اور میعاد گذرتی دیکھ کر فیصلہ کر دیا ہے کہ کلیسا کو مسیح مان لو۔یہی مسیح کا نزول ہے۔ان کو بھی آخر کاز نزول کو استعارہ کے رنگ میں ہی ماننا پڑا ۔احادیث پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ تمام خلفاء اس امت میں سے ہوں گے۔قرآنِ سریف بھی یہی کہہ رہا ہے اور سب جگہ منکم کا لفظ موجود ہے مگر نامعلوم کہ ان لوگوں نے من بنی اسرائیل کہاں سے بنا لیا۔کیا یہ تھوڑا نشان یہ کہ نہ کوئی واعظ ہے نہ لیکچرار اور ہماری ترقی برار ہو رہی ہے۔بھلا اگر ان کو طاقت ہے تو روک دیں۔اﷲ تعالیٰ خود لوگوں کو ادھر رجوع دلا رہا ہے۔مصر سے بھی بیعت کی درخواست آئی ہے۔یورپ میں تحریک ہے۔امریکہ میں تحریک ہے۔ میں پھر جماعت کو تاکیدکرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو گا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا۔وہ فرماتا ہے۔ ان اﷲ مع الذین اتقو او الذین ھم محسنون (نحل : ۱۲۹) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہت اہے کثیر حصہ نہ لو گے تو اﷲ تعالیٰ سب سے اول تم ہی کو ہلاک کرے گا،کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔جبتک پورا تقویٰ ختیار نہ کرو گے ہرگز نہ بچو گے۔خدا تعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے۔جو ہماری مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جبتک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔ ان لوگوں کی حالتوں پر غور کرو کہ جب توفی کا لفظ مسیح کے لیے آوے تو اس کے معنے آسمان پر اجنے کے کرتے ہیں۔اور جب وہی لفظ آنحضرت ﷺ کے لیے استعمال ہو تو اس کے معنے وفات پانے کے کرتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ عملی راستی دکھائو۔تا وہ تمہارے ساتھ ہو۔رحم، اخلاق، احسان،اعمالِ حسنا،ہمدردی اور فروتنی میں اگر کمی رکھو گے تو مجھے معلوم ہے اور بار بار میں بتلا چکا ہوں کہ سب سے اول ایسی ہی جماعت ہلاک ہوگی۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت جب اس کی امت نے خدا تعالیٰ کے حکموں کی قدر نہ کی تو باوجود یکہ موسیٰ اُن میں موجود تھا مگر پھر بھی بجلی سے ہلاک کئے گئے۔پس اگر تم بھی ویسے کرو گے تو میری موجودگی کچھ کام نہ آوے گی۔ اب ہم ان لوگوں کو کہانتک سمجھائیں۔بہت سی کتابیں چھپ چکی ہیں اور ان کے لیے کافی اتمامِ حجب ہو چکا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام پر توفی کا استعمال کریں تو اس کے معنے موت کے ہوں۔