تالے نہ کھولے تو کس طرح سمجھ میں آوے۔کوئی بتاوے تو سہی کہ جب سے دنیا ہوئی ہے کسی مفتری نے اس قسم کی پیشگوئی بھی کی ہے۔خد ا تعالیٰ سے خوف کرنے والے کے لیے تو ایک ہی نشان کافی ہوسکت اہے۔لیکن ان لوگوں نے اس قدر کثیر نشانوں سے بھی فائدہ نہ اُٹھایا۔ غرض مدعا یہ ہیکہ یہ تمام باتیں ان لوگوں کے لیی ہیں جو ہدایت قبول کرتے ہیں۔نہ کہ منکروں کے لیے جن کے واسطے اﷲ تعالٰٰ کا قانون اور ہے۔تم خدا سے پناہ مانگو کہ اُن کے لیے جو قانون یہ اس میں تم کو داخل نہ کرے۔ہمیشہ نیک دل خدا تعالیٰ کی رحمت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔یہ نہ خیال کرو کہ یہ لوگ مذہب میں پکے ہیں۔بڑے بُزدل ہوتے ہٰں۔قہرِ الٰہی کا ذرا نہیں مقابلہ کر سکتے۔لیکن یا د رکھیں کہ یہ ایسا زمانہ ہے۔جس کے لیی سب نبیوں ی پیش گوئیاں ہیں اور جسیے مختلف نہریں مل کر ایک دریا بہ کر بہہ نکلتی ہیں اسی طرح ان پیشگوئیوں کا سیلاب بہہ نکلے گا اور آدمؑ ،موسیٰ ؑ،ابراہیمؑ وغیرہ پیغمبروں نے جو کچھ کہا وہ سب پورا ہو کر رہے گا۔بعض رحمت کے نشان بھی ہوں گے مگر اُن سے انہی کو حصہ ملے گا جو عاجز ۔فروتن اور خائف اور تائب ہوں گے اور جو منکر ہیں وہ قہری نشان سے حصہ لیں گے؛اگر چہ یہ لوگ اس وقت انکار کو نہیں چھوڑتے اور صرف ماں باپ یا جاہل لوگوں سے سن سنا کر غلط عقائد پر اڑے ہوئے ہیں لیکن خدا تعالیٰ زبردستی سب کچھ چھڑادے گا۔زبردست سے لڑنا نادانی ہے۔اگر یہ کاروبار نسان کی طرف سے ہوتا تو کب کا تباہ ہوجاتا۔آنحضرتﷺ کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ ہم پر افتراء کرتا تو ہم اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے۔پھر کیا وجہ یہ کہ اگر میں خدا پر افتراء کرتا ہوں اور تھوڑی مدت نہیں بلکہ تیس سال کے قریب ہو چلا کہ ہمیشہ اس کی طرف سے وحی لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ جانتا بھی ہے کہ میں جھوتا ہوں لیکن میری تائید کرتاہے اور ہلاک نہیں کرتا۔وہ کیسا خدا ہے کہ ایک جھوٹے سے اتفاق کر بیٹھا ہے اور ہزاروں نشان اس کی تائید میں دکھاتا ہے۔نئی سواری بھی اس کے لیے نکالی۔کسوف و خسوف بھی اس کے لیی ماہ رمضان میں کیا۔طاعون بھی بھیجی۔گویا خدا نے جان کر دھوکا دیا اور جو کام دجال نے کرنا تھا وہ خود آپ کیا تا کہ مخلوق تباہ ہو۔ذرا سوچو کیا خدا تعالیٰ کے لیے یہ جائز ہو سکتا ہیکہ ایک کذاب مفتری اور دجال کی وہ اس قدر مدد کرے۔اور مولوی لوگ جو خود کو اس کا مقرب جانتے ہیں۔ان کی دعا ہرگز قبول نہ ہو۔جو لڑائی یہ لوگ لڑرہے ہیں وہ مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔میں تو کچھ شئے نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ سے لڑائی والا کبھی بابرکت نہیں ہوسکتا ۔میں تو اس بات کو کہتے ہوئے ڈرتا ہوں اور مجھے لرزہ پڑتا ہے کہ افترا ہو اور خدا تعالیٰ چپ کر کے بیٹھا رہے۔اگر اُن کے نزدیک یہ افترا یہ تو چاہیے کہ دعا کریں کہ خدا اسے نیست کرے یا دعا کر کے حضرت مسیح کو آسمان سے اُتاریں۔عیسائی محققین نے بھی آخر کا ر مسیحؑ کے آسمان