کامل طور پر مجھ کو قبول کرتا ہے وہ ضرور محفوظ رہے گا۔لیکن اس کا مجھے علم نہیں کہ وہ کون ہے۔میں کسی کے سینہ کو چیر کر نہیں دیکھتا۔صحابہ کرامؓ کا بھی ایک گروہ طاعون سے شہید ہوا تھا۔مگر دیکھ لو کہ ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنہما طاعون سے ہرگز نہیں فوت ہوئے۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنے بندوں میں امتیاز رکھا ہے۔جیسے کہ فرمایا ہے
فمنھم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات (فاطر : ۳۳)
جماعت سے خطاب اس کے بعد آپ نے جماعت کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ :
ضروری بات یہ یہکہ تم لوگ ان باتوں کی طرف متوجہ نہ ہو اور تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرو۔تمہارا معاملہ اور حساب خدا سے الگ ہے اور مخالف لوگوں کا حساب الگ ہے ۔جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ کیسی ہی سچی بات کیوں نہ ہو مگر وہ قبول نہ کریں گے۔اﷲ تعالیٰ بھی ان کی نسبت یہی فرماتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو ہی قبول کریں گے۔ان کی بناوٹ ہی اسی قسم کی ہے کہ عمدہ شئے یا بات جو پیش کی جاوے وہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور اگر بدبودار بات ہو تو خوش ہوتے ہیں۔قرآنِ شریف ، احادیث اور عقلی دلائل اور نشان پیش کئے۔مگر یہ لوگ ان کی پروا نہیں کرتے۔صرف ایک بات کو نشانہ بناتے ہیں،پس جبکہ خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ ایک مذہب ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔مگر جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے فہمِ سلیم عطا کیا ہے ان کو چاہیے کہ وہ شکر کریں کیونکہ فائدہ اُٹھا نیوالے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے خود پا ک کیا۔
نشاناتِ صداقت
ابھی ہماری جماعت کے بہت سے لوگ چھپے ہویء ہیں ظاہر اً وہ ہم سے الگ ہیں ،لیکن دراصل ہم میں سے ہیں۔ہمیں خود ان کا علم نہیں لیکن امید ہے کہ اپین وقت پر وہ آجاویں گے ۔خود لا ہور میں ایک شخص نے ملاقات کی اور کہا کہ میں آپکو گالیاں دیا کرتا تھا۔اب توبہ کرتا ہوں۔بعضوں نے بذریعہ خواب کے مانا اور اکثر کو خد ا آنحضرت ﷺ نے کشف میں ٰا خاوب میں کہا کہ تم قبول کر لو۔جو لوگ بغض کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تیز دھار کو روک لیویں مگر وہ کسی کے روکنے سے رُک نہیں سکتی۔اگر انسانی کا روبار ہوتا تو آجتک کب کا تباہ ہو جاتا۔مجھے دعویٰ کئے ہوئے چوبیس برس سے زیادہ عرصہ گذرگیا ایک مفتری کو اس قدر مہلب مل سکتی ہے کہ اگر کسی کو عقل ،فہم اور موت کا ڈر ہو تو وہ براہین کے وقت کو دیکھے کہ جو پیشگوئیان اس میں ہیں وہ کیسے پوری ہو کر رہیں،لیکن یہ بات ہے کہ جبتک اﷲ تعالیٰ ہدایت نہ دے اور وہ دل کے