نہیں کرتے۔اس پر بعض مفسد طبائع نے شور کرنا شروع کیا۔آخر مصلحت وقت دیکھ کر مولوی صاحب کو بیجا مداخلت سے روکا گیا اور جب وہ باز نہ آئے تو اُن کو جبراً احاطہ سے باہر کر دیا گیا۔اس اثنا میں جو کلام حضور علیہ السلام نے فرمایا۔اُسے ہم یکجائی طور پر درج کرتے ہیں۔
فرمایا کہ :
مسیح اور مہدی کی ضرورت
شکوک کے رفع کے لیے اگر کوئی راستی اور سچی نیت سے آوے تو ہم اسے سمجھا سکتے ہیں اور اب تو ایسا زمانہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ خود ایک معلم کی طرح سمجھا رہا ہے۔یہ اس کی عادت میں داخل ہے کہ جب دنیا میں گناہ اور بے ایمانی بڑھ جاوے اور ردی اخلاق اور ردی عادات ترقی پکڑجاویں تو ایک شخص کو اصلاح کے لیی مامور کرے۔اسلام اس وقت دو آفتوں کے ماتحت یہ۔ایک اندرونی۔دوسری بیرونی۔اندرونی خود عالموں کا اختلاف اور مسلمانوں کا دنای کی طرف میلان۔اور بیرونی وہ آفت جو عیسائیت کیوجہ سے ہے۔پس کیا ابھی تمہارے نزدیک مہدی اور مسیح کی ضرورت نہ تھی؟
تیس دجال
پھر ایک اعتراض یہ پیش کرتے ہو کہ اس امت میں تیس دجال آنیوالے ہیں۔اے بدقسمتو! کیا تمہارے لیے دجال ہی رہ گئے کہ اگر ایک کے آنے سے ایمان کے تباہ ہوین میں کوئی کسر رہ جاوے تو پھر دوسرا۔تیسرا اور چوتھا حتیٰ کہ تیس دجال آویں تا کہ ایمان کا نام و نشان نہ رہے۔اس طرح تو موسیٰ علیہ السلام کی امت ہی اچھی رہی کہ جس میں پے در پے چارسو نبی آیا۔پھر موسیٰ علیہ السلام کے وقت تو عورتوںسے بھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا۔کیا امت محمدیہ کے مرد بھی اس قابل نہ ہوئے کہ خا تعالیٰ اُن سے ہمکلام ہوتا؟ پھر یہ بتلائو کہ یہ اُمتِ مرحومہ کس طرح ہوئی،اس کا نام تو بدنصیب ہونا چاہیے۔آنحضرت ﷺ کو تیرہ سو برس گذر گئے ارو جس قدر فیوض اور برکات تھے وہ سب سماع کے حکم میں آگئے۔اب اگر خدا تعالیٰ اُن کو تازہ کر کے نہ دکھائے تو صرف قصہ کہانی کے رنگ میں اُن کو کون مان سکتا ہے؛ جبکہ تازہ طور پر خدا تعالیٰ کی مدد نہیں۔نصرت نہیں تو خد اتعالیٰ کی حفاظت کیا ہوئی؟ حالانکہ اس کا وعدہ ہے
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰)
طاعون اور احمدی
جب متعصب مولوی صاحب نے طاعون کا ذکر کیا کہ آپ کے مرید کیوں مرتے ہیں اور اس کا علاج کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔تو آپ نے فرمایا :
کسوف و خسوف کا علاج بھی کچھ سوچا ہے۔اس وقت بحث تو نشانوں کی ہے نہ کہ علاج کی۔ہاں جو