سے ضعیف حدیث بھی بشرطیکہ وہ قرآنِ شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب العمل سمجھتے ہٰں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب اﷲ اصح الکتب مانتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ یاد رکھو کہ مجھے کبھی بھی یہ خواہش نہیں ہوئی کہ لوگ مجھے مانیں بلکہ مجھے تو ان جماعتوں سے ہمیشہ سے نفرت ہے اور اگر میں ملتا ہوں یا ان لوگوں میں آکر بیٹھتا ہوں تو اپنی مرضی سے ہرگز نہیں ملتا،بلکہ اﷲ تعالیٰ مجھے مجبور کتا ہے اور کہتا ہے کہ تو ایسا کر۔ایسی حالت میں بتلائو کہ اگر میں اس کی بات نہ مانوں تو کیا کروں؟ میں تو رات دن وحی کے نیچے کام کرتا ہوں۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تم رسول اﷲ ﷺ کو پختہ طور سے مانو۔آپ کو ماننا یہ ہے کہ آپ کے وصایا پر عملدرآمد کیا جاوے اور انہی میں سے یہ بات بھی ہے کہ جب وہ مسیح موعود آوے تو تم سب اس کے ساتھ ہو جانا۔میرے ماننے کی مثال یہ ہے جیسے ایک آقا نوکر کو کہے کہ فلاں شخص میرا میزبان؎ٰ ہے تم اُسے لا کر کھانا کھلائو اور ہر طرح کی تعظیم اور تکریم کرو۔لیکن نوکر اس کے جواب میں یہ کہے کہ میں تو صرف آپ کو مانتا ہوں۔مجھے کسی دوسرے کی تعظیم و تکریم سے غرض نہیں ہے اور نہ اس کی خواہش ہے۔تو اب سوچ کر دیکھو کہ کیا اس نے اپنے آقا کو مانا؟ ہرگز نہیں مانا۔کیونکہ جس بات میں وہ راضی ہوت اہے اس کے کرنے سے تو اُسے انکار ہے۔پس یاد رکھو کہ تم لگو بھی آنحصرت ﷺ کو حقیقی طور پر اسی وقت مانو گے،جبکہ آپ کے احکام اور وصایا کو مانو گے۔جس نے آخری حکم کو توڑا اُس نے سارے حکموں کو توڑا۔سوچو تو سہی کہ اگر ایک شخص تمام عمر نماز،روزہ ادا کرے،لیکن آخری وقت بجائے لاالہ الا اﷲ کے رام رام کہے تو کیا وہ نماز روزہ اس کے کام آوے گا؟ آنحضرت ﷺ نے یہانتک فرمادیا کہ اس اُمت کی دو دیواریں ہیں۔ایک میں اور ایک مسیح او راس کے درمیان آپ نے فیج اعوج فرمایا ہے جن کی نسبت ارشاد یہ کہ وہ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوںپس جبکہ خود آنحضرت ﷺ اسے ایک ٹیڑھا گروہ قرار دیتے ہیں تو ہم اُن کی باتوں کو کیوں قبول کر لیں اس موقعہ پر ایک وزیر آبادی متعصب مولوی نے مداخلت کی اور ٹیڑھی راہ اختیار کر کے بے جا سوال اور کلام شروع کیا۔اول تو حضرت اقدس اُسے حلیمی سے سمجھاتے رہے،مگر جب معلوم ہوا کہ اس کی غرض رفع شکوک و شبہات نہیں۔صرف مناظرہ کا ایک اکھاڑہ قائم کرنا چاہتا ہے تو اُس سے اعراض کای اور فرمایا کہ مباحثہ کا دروازہ تو ہم بند کر چکے ہیں۔اب اس میں پڑنا پسند