دوزخ میں۔پس جبکہ انسان بلا حصول نفسِ مطمئنہ کے نہ پوری پاکیزگی حاصل کر سکتا ہے اور نہ جنت میں داخل ہو سکت اہے تو اب خواہ آریہ ہوں یا عیسائی کونسی عقلمندی ہے کہ قبل اس کے کہ یہ نفس حاصل ہو وہ بھیڑیوں اور بکریوں کو اکٹھا چھوڑدیویں۔کیا ان کو امید ہے کہ وہ پاک اور بے شرزندگی بسر کرلیں گے۔یہ ہے سرا اسلامی پردہ کا۔اور میں نے خصوصیت سے اُسے اُن مسلمانوں کے لیے بیان کیا ہے جن کو اسلام کے احکام اور حقیقت کی خبر نہیں اور مجھے امید ہے کہ آریہ لوگ اس سے بہت کم مستفید ہوں گے،کیونکہ ان کو تو اسلام کی ہر ایک بھلی بات سے چِڑ ہے۔ مسیح موعود کو ماننے کی ضرورت اس قدر تقریر ہو چکی تھی کہ اس اثنا ء میں خلیفہ راجب الدین صاحب نے بلند آوازسے لاہور کی پبلک کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کو ماننے کی ضرورت کا سوال پیش کیا؛ اگر چہ بعض لوگوں کو یہ دخل اس لیے ناگوار ہوا کہ خد اتعالیٰ کا فرستادہ نورِ فراست سے جس ضرورت کو محسوس کر کے کلام فرمارہا تھا اس کی توجہ ادھر سے پھیردی گئی۔لیکن ہمارے نزدیک یہ تحریک بھی مصالح ایزدی سے باہر نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ : اس کا مختصر جاوب یہ ہے کہ میں نے بہت سی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ سے یہ بات سمجھادی ہوئی ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا ذکر اور وعدہ اجمالاً قرآن میں اور تفصیلاً احادیث میں پایا جاتا ہے۔اور جو لوگ اسے نہیں مانتے قرآنِ شریف کی رو سے ان کا نام فاسق ہے اور احادیث سے واضح ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اس مسیح کو نہیں مانتا وہ گویا مجھے نہیں مانتا اور جو اس کی معصیت کرتا ہے۔گویا میری معصیت کرتا ہے۔ لوگ مخلوق کو دھوکہ دیتے ہیں اور غلطیوں میں ڈالتے ہیں کہ ہم نے کوئی نیا کلمہ یا نماز تجویز کی ہے۔ایسے افترائوں کا میں کیا جاوب دوں۔اسی قسم کے افترائوں سے وہ ایک عاجز انسان مسیح لعیہ السلام کو تین خد ابنا بیٹھے ۔دیکھو۔ہم مسلمان ہیں اور امّتِ محمدی ہیں اور ہمارے نزدیک نئی نماز بنانی یا قبلہ سے روگردانی کفر ہے۔کُل احکامِ بیغمبری کو ہم مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کوٹالنا بھی بدذاتی ہے۔اور ہمارا دعویٰ قال اﷲ اور قال الرسول کے ما تحت ہے۔اتباعِ نبویؐ سے الگ ہو کر ہم نے کوئی کلمہ یا نماز یا حج یا ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد نہیں بنائی۔ہمارا کام یہ ہے کہ اس دین کی خدمت کریں اور اس کو کل مذاہب پر غالب کرکے دکھادیں۔قرآنِ شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خد اسے ثابت ہیں۔اتباع کریں۔ضعیف