کو ترک نہ کرو؛ورنہ یاد رکھو کہ اسلام کا تو کچھ حرج نہیں ہے۔
اگر اس کا ضرر ہے تو تم ہی کو ہے۔ہاں اگر تم لوگوں کو یہ اطمینان ہے کہ سب کے سب بھگت بن گئے ہو اور نفسانی جذبات پر تم کو پوری قدرت حاصل ہے اور قویٰ پر میشر کی رضا اور احکام کے برخلاف بالکل حرکت نہیں کرتے تو پھر ہم تم کو منع نہیں کرتے۔بیشک بے پردگی کو رواج دو لیکن جہانتک میرا خیال ہے ابھی تک تم کو وہ حالت نصیب نہیں اور تم میں سے جس قدر لوگ لیڈربن کر قوم کی اصلاح کے درپے ہیں اُن کی مثال سفید قبر کی ہے جس کے اندر بجز ہڈیوں کے اور کچھ نہیں،کیونکہ ان کی صرف باتیں ہی ہیں۔عمل وغیرہ کچھ نہیں۔
نفسِ انسانی کی چار حالتیں
اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفسِ انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچارہے،کیونکہ ابتدا میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذرا سی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے۔جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیز کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے اور اس کی اصلاح کی حالتوں کے لحاظ سے اس کے چار نام مقرر کئے گئے ہیں۔اول اول نفس زکیہ ہوتا ہے کہ جس کو نیکی بدی کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور یہ حالت طفلگی تک رہتی ہے۔پھر نفسِ امارہ ہوتا ہے کہ بدیوں کی طرف ہی مائل رہتا ہے اور انسان کو طرح طرح کے فسق و فجور میں مبتلا کرتا ہے اور اس کی بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ ہر وقت بدی کا ارتکاب ہو۔کبھی چوری کرتا ہے۔کوئی گالی دے یا ذرا خلاف مرضی کام ہو تو اُسے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے۔اگر شہوت کی طرف غلبہ ہو تو گناہوں اور فسق و فجور کا سیلاب بہہ نکلتا ہے۔دوسرا نفس لوامہ ہے کہ اس میں بدیاں بالکل دور تو نہیں ہوتیں، مگر ہاں ایک بچھتاوا اور حسرت و افسوس مرتکب اپین دل میں محسوس کرتا ہے اور جب بدی ہو جاوے تو اس کے دل میں نیکی سے اس کا معاوضہ کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور تدبیر کرتا ہے کہ کسی طرح گناہ سے بچے۔اور دعا میں لگتا ہے کہ زندگی پاک ہو جاوے اور ہوتے ہوتے جب یہ گناہ سے پوتر ہو جاتا ہے تواس کا نام مطمئنہ ہو جاتا ہے اور اس حالت میں بدی کو ایسی ہی بدی سمجھتا ہے۔جیسے کہ خد اتعالیٰ بدی کو بدی سمجھتا ہے۔بات یہ ہے کہ دنیا اصل میں گناہ کا گھر ہے جس میں سرکشیوں میں پڑ کر انسان خدا کو بھلا دیتا ہے۔نفس اماراہ کی حالت میں اس کے پاجوں میں زنجیریں ہوتی ہیں اور لوامہ میں کچھ زنجیریں پائوں میں ہوتی ہیں اور کچھ اُتر جاتی ہیں مگر مطمئنہ میں کوئی زنجیر نہیں رہتی سب کی سب اُتر جاتی ہیں اور وہی زمانہ انسان کا خدا تعالیٰ کی طرھ پکے رجوع کا ہوت اہے اور وہی خا تعالیٰ کے کامل بندے ہوتے ہیں جو کہ نفسِ مطمئنہ کے ساتھ دنیا سے علیحدہ ہو ویں اور جبتک وہ اسے حاصل نہ کر لے تب تک اُسے مطلق علم نہیں ہوتا کہ جنت میں جاوے گا یا