اس بحچ کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں؛ ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسبِ حال تعلیم دیتا ہے۔کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قل للمو منین یغضو امن ابصار ھم و یحفظو افر و جہم ذلک از کی لہم (النور : ۳۱) کہ تو ایمان والوں کو کہدے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے اُن کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اوران میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔پھر یاد رکھو کہ ہزار درہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہیکہ جن باتوں سے اﷲ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو اُن سے رُکنا ہی پڑتا ہے۔تعدد ازدواج اور طلاق کے مسئلہ پر غور کرو ؎ ہر چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابیٔ بسیار ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبان بھی بے پردگی پر زور دیتے ہیں اور قرآن شریف کے احکام کی مخالفت چاہتے ہیں؛ حالانکہ اسلام کا یہ بڑا احسان ہندوئوں پر ہے کہ اُس نے اُن کو تہذیب سکھلائی اور اس کی تعلیم ایسی ہے جس سے مفاسد کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔مثل مشہور ہے ؎ خربستہ بہ گرچہ وزد آشنا اسب یہی حالت مرد اور عورت کے تعلقات کی ہے کہ اگر چہ کچھ ہی کیوں نہ ہو لیکن تا ہم فطری جوش اور تقاضے بعض اس قسم کے ہوتے ہٰں کہ جب اُن کو ذرا سی تحریک ہوئی تو جھٹ حدّ اعتدال سے ادھر اُدھر ہو گئے۔اس لیے ضروری ہیکہ مد اور عورت کے تعلقا ت میں حد درجہ کی آزادی وغیرہ کو ہرگز نہ دخل دیا جاوے۔ذرا اپنے دلوں میں غور کرو کہ کیا تمہارے دل راجہ رامچند ر اور کرشن وغیرہ کی طرح پاک ہو گئے ہیں؟ پھر جب وہ پاک دلی تم کو نصیب نہیں ہوئی تو بے پردگی کو رواج دیکر بکریوں کو شیروں کے آگے کیوں رکھتے ہو۔ہٹ اور ضد اور تعصب اور چڑ وغیرہ سے تم لوگ دیدہ دانستہ اسلام کے اُن پاکیزہ اصولوں کی مخالفت کیوں کرتے ہو جن سے تمہاری عفت بر قرار رہتی ہے۔عقل تو اس بات کا نام ہے کہ انسان کو نیک بات جہاں سے ملے وہ لے لیوے،کیونکہ نیک بات کی مثال سونے اور ہیرے اور جواہر کی ہے اور یہ اشیاء خواہ کہیں ہوں۔آخر وہ سونا وغیرہ ہی ہوں گی۔اس لیے تم کو لازم ہے کہ اسلام کے نام سے چڑ کر تم نیکی