جو بشا رت کی پیشگو یئو ں کو نہیں ما نتے ۔ تو اس طا عو ن کی پیشگو ئی کو د یکھ لیں ۔ سعا دت سے انہیں کو حصہ ملتا ہے جو دور سے بلا کو د یکھتا ہے ۔
خدا تعا لیٰ پر تَقَوَّ لکر نیو الا ہلا ک ہو جا تا ہے ۔
صا دق کے لیے خدا تعا لیٰ نے ایک اور نشا ن بھی قر ار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضر ت ﷺ کو فر ما یا کہ اگر تو مجھ پر تَقَوَّ ل کرے تو میں تیر ا د ہنا ہا تھ پکڑ لو ں ۔ اللہ تعا لیٰ پر تَقَوَّ ل کرنیو الامفتری فلا ح نہیں پا سکتا بلکہ ہلا ک ہو جا تا ہے اور اب پچیس سا ل کے قر یب عر صہ گذرا ہے کہ خدا تعا لی ٰکی وحی کو میں شا ئع کر ر ہا ہو ں ۔ اگر افتر اء تھاتو اس تقو ل کی پا داش میں ضر ور ی نہ تھا کہ خدا اپنے وعدہ کو پو را کر تا ؟ بجا ے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صد ہا نشا ن میر ی تا ئید میں ظا ہر کئے اور نصر ت پر نصر ت مجھے دی ۔ کیا مفتر یو ں کے سا تھ یہی سلو ک ہو ا کر تا ہے ۔؟ اور دجا لو ں کو ایسی ہی نصر ت ملا کر تی ہے۔ ؟کچھ تو سو چو ۔ ایسی نظیر کو ئی پیش کر و اور میں دعو ی سے کہتا ہو ں ہر گزنہ ملیگی ۔
ہا ں میں یہ جا نتا ہو ں کہ طبیب تو مر یض کو کلو رو فا ر م سنگھا کر بھی دوائی اند ر پہنچا سکتا ہے ۔رو حا نی طبا بت میں یہ نہیں ہے بلکہ با تو ں کو مو ثر بنا نا اور دل میں ڈالنا خدا تعا لیٰ کا کا م ہے وہ چا ہتا ہے تو شو خی کو دور کر کے خو د اند را یک وا عظ پیدا کر د یتا ہے ۔
نو وارد۔
میں اہل اسلا م کی زیا د تی پر تعجب کر تا ہو ں ۔ آپ کے کلما ت میںمیں کو ئی وجہ کفر کی نہیں دیکھتا ۔
حضر ت اقد س
آ پ کتا بیں بھی د یکھ لیں تا کو ئی شک آپ کو با قی نہ رہے کہ کو ن سے ایسے کلما ت ہیں جو قا ل اللہ اور قا ل الر سو ل کے خلا ف ہیں ۔ میں ان کے کفر کی پر و ا نہیں کر تا ۔ ضر ور تھا کہ ایسا ہی ہو تا کیو نکہ ان کے ہی آثا ر میںلکھا ہو ا تھا ۔ کہ مسیح جب آئیگا تو اس پر کفر کے فتو ے د ئیے جائیں گے یہ پیشگو یئا ں کیسے پو ر ی ہو ئیں ؟یہ تو اپنے ہا تھ سے پو ر ی کر رہے ہیں ۔ مجد د صاحب اور نو ا ب صد یق حسن خا نصا حب کہتے ہیں کہ جب وہ آئے گا تو علما ء مخا لفت کر نیگے اور محی الد ین عر بی نے لکھا ہے کہ جب وہ آئیگا تو ایک شخص ا ٹھ کر کہے گا
ا ن ھذ االر جل غیر د یننا
اب جبکہ پہلے سے با تیں ہیں تو ہم خو ش ہو تے ہیں کہ یہ لو گ اپنے ہا تھ سے پو را کر ر ہے ہیں اب جبکہ یہ با تیں پہلے سے ہیں تو یہ بھی صدا قت کا نشا ن ہے اس لیے ہم ان با تو ں کی کچھ پر وا نہیں کر تے
یہ جو کہتے ہیں کہ آسما ن سے مسیح آئیگا وہ ا تنا نہیں د یکھتے کہ قر آ ن شر یف میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ اسلا م وفا ت پا گئے ۱ ؎