ہر چیزکے عنوان سے پہلے ہی سے نظر آجاتے ہیں ۔ جیسے پھل سے پہلے شگوفہ نکل آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا کہ مہدی آکر جہاد کرتا اور تلوار کے زور سے اسلام کی حمایت کرتا تو چاہیے تھا کہ مسلمان فنون حربیہ اور سپہ گری میں ۔۔۔۔۔ تمام قوموں سے ممتاز ہوتے اور فوجی طاقت بڑی ہوئی ہوتی مگر اس وقت یہ طاقت تو اسی قوم کی بڑھی ہوئی ہے اور فنونِ حرب کے متعلق جس قدر ایجادا ت ہو رہی ہیں وہ یوپ میں ہو رہی ہیں نہ کسی اسلامی سلطنت میں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے اور یضع الحرب کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے یہی ہونا بھی چاہیے تھا دیکھو مہدی سوڈانی وغیرہ نے جب مخالفت میں ہتھیار اٹھائے تو خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا یہانتک کہ اس کی قبر بھی کھدوائی گئی اور ذلت ہوئی اس لیے کے خدا ے منشاء کے خلاف تھا۔ مہدی موعود کا یہ کام ہی نہیں ہے بلکہ وہ تواسلام کو اس کی اخلاقی اور علمی وعملی اعجازات سے دلوں میں داخل کرے گا اور اس اعتراض کو دور کرے گا جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا وہ ثابت کر دکھاے گا کہ اسلام ہمیشہ اپنی عملی سچائیوں اور برکات کے ذریعہ پھیلاہے۔ ان تمام باتوںسے انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشا تلوار سے کام لینا فنونِ حرب اسلام والوں کے ہاتھ میں ہوتے اسلامی سلطنتوں کی جنگی طاقتیں سب سے بڑھ کر ہوتیں اگرچہ حقیقی خبر تو خدا تعالیٰ سے وحی پانے والوں کو ملتی ہے مگر مومن کو بھی ایک فراست ملتی ہے اور وہ علامات و آثار سے سمجھ لیتا ہے کہ کیا ہونا چاہیے جب عیسائی قوموں کے مقابل آتے ہیں تو زک اُٹھاتے ہیں اور ذلت کا منہ دیکھتے ہیں کیا اس سے پتہ نہیں لگتا کہ خدا تعالیٰ کا منشا تلوار اٹھانے کا نہیں ہے یہ اعتراض صحیح نہیں غلط ہے۔ مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کردے کیونکہ یضع الحرب اس کی شان میں آیا ہے کیا وہ رسول اللہ ﷺکی پیشگوئی کو باطل کر دیگا ؟ معاذاللہ ۔قرآن شریف سے بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے کہ اس وقت لڑائی نہیں ہونی چاہیے کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جب دل اعتراضوں سے بھرے ہوے ہوں تو ان کو قتل کردیا جا وے تلوار اُٹھاکر مسلمان کیا جاوے وہ اسلام ہو گا یا کفر جو ان کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوگا ؟ آنحضرتﷺ کی جنگیں محض دفاعی تھیں رسول اللہ ﷺنے کبھی مذہب کیلئے تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ اتمامِ حجت کے بعد جس طرح پر خدا نے چاہا منکروں کو عذاب دیا۔وہ جنگیں دفاعی تھیں ۔تیرہ برس تک آ پ ستائے جاتے رہے اور صحابہ ؓنے جانیں دیں انہو ںنے (منکروں نے)نشان پر نشان دیکھے اور انکار کرتے رہے آ خرخداتعالیٰ نے ان کو جنگوں کی صورت میں عذاب سے ہلاک کیا ۔اس زمانہ میں طاعون ہے ۔ جوں جوں تعصب بڑھے گا طاعون بڑھے گی۔ قرآن شریف میں اس کی بابت خبردی گئی ہے وان من قریۃ الا نحن مھلکو ھا قبل یوم القیامۃ او معذبوھا۔(نی اسرائیل ، ۵۹) پس اگر میں خدا کیطر ف سے ہو ں اور وہ بہتر جا نتا ہے کہ میں اسی کی طر ف سے ہو ں تو اس کے و عد ے پو ر ے ہو کر