آخر میں فر ما یا کہ
اگر وہ صحا بہ ؓ کا سا مذا ق اورمحبت ہو تی جو صحا بہؓ کے دل میں تھی تو یہ عقید ہ نہ رکھتے کہ وہ زند ہ ہیں۔ حضر ت عیسی کو خا لق بھی نہ ما نتے اور غیب دان بھی۔ (نہ ما نتے ) خد ا تعا لیٰ ان فسا دوں کورو ا نہیں ر کھتا۔ اور اس نے چا ہا ہے کہ اصلا ح کر ے ۔ہما را کا م اللہ کیلئے ہے اور اگر اللہ تعا لیٰ کا یہ کا روبا ر ہے اور اسی کا ہے تو کسی انسا ن کی طاقت میں نہیں کہ اس کو تبا ہ کر سکے اور کو ئی ہتھیار اس پر چل نہیں سکتا ،لیکن اگر انسا ن کا ہے تو پھر خو د ہی تبا ہ ہو سکتا ہے انسا ن کو زور لگا نے کی بھی کیا حا جت ہے ۔
در با ر شا م
نو وار صا حب کی وجہ سے تحر یک تو ہو ر ہی تھی ۔ اس لیے بعد ادا ئے نما ز مغرب حجتہ اللہ نے ایک مختصر سی جا مع تقر یر فر ما ئی ۔ جس کا ہم فقط خلا صہ د یتے ہیں ۔ فر ما یا :۔
حقیقت اسلا م
لو گ حقیقت اسلا م سے با لکل دو ر جا پڑ ے ہیں ۔ اسلام میں حقیقی زند گی ایک مو ت چا ہتی ہے۔ جو تلخ ہے لیکن جو اس کو قبول کر تا ہے آخر و ہی زند ہ ہو تا ہے۔ حد یث میں آیا ہے کہ انسا ن د ینا کی خو اہشو ں اور لذتو ں کو ہی جنت ہو تی ہے اس میں کو ئی شک نہیں کہ د نیا فا نی ہے اور سب مر نے کے لیے پیدا ہو ئے ہیں آخر ایک وقت آجا تا ہے کہ سب دو ست آشنا عز یز واقار ب جد ا ہو جا تے ہیں ۔ اس وقت جسقد ر نا جا ئز خو شیو ں اور لذتو ں کو را حت سمجھتا ہے ۔وہ تلخیو ں کی صو رت میں نمو دا ر ہو جا تی ہیں۔ سچی خو شحا لی اور راحت تقو یٰ کے بخیر حا صل نہیں ہو تی اور تقو یٰ پر قا ئم ہو نا گو یا ز ہر کا پیا لہ پینا ہے متقی کے لیے خدا تعا لی سا ر ی را حتو ں کے سا ما ن مہیا کر د یتا ہے
من یتق اللہ یجعل لہ مخر جا و یر ز قہ من حیث لا یحتسب (سو ر ت الطلاق :۳،۴)
پس خو شحا لی کا اصو ل تقو ی ہے لیکن حصو لِ تقو ی کیلئے نہیں چا ہیئے کہ ہم شر طیں با ند ھتے پھر یں تقو ی ا ختیا ر کر نے سے جو ما نگو گے میلیگا ۔ خد ا تعا لیٰ ر حیم وکر یم ہے ۔ تقو ی ا ختیا ر کر و جو چا ہو گے وہ دیگا ۔ جسقد ر اولیا ء اللہ اور اقطا ب گذرے ہیں۔ انہو ں نے جو کچھ حا صل کیا تقو ی ہی سے حا صل کیا ۔اگر وہ تقو ی ا ختیا ر نہ کر تے تو وہ بھی د نیامیں معمو لی انسانو ں کی حیثیت سے زند گ بسر کر تے ۔ دس بیس کی نو کر ی کر لیتے یا کو ئی اور حر فہ یا پیشہ اختیا ر کر لیتے ہیں اس سے زیا دہ کچھ نہ ہو تا ۔ مگر آج جو عر وج ان کو ملا اور جس قد ر شہر ت اَور عزت انہوں نے پا ئی ۔ یہ سب تقو ی ہی کی بد ولت تھی ۔ انہو ں نے ایک مو ت ا ختیا ر کی اس کے بد لہ میں پا ئی ۔
عبادت اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی سے رنگین ہو کر کرو
ٹائپ کرنے وال ہے