تجدیدِ دین کی ضرورت
نووارد۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر صدی پر مجدد ہونا چاہیے۔ ۱؎حضرت اقدس۔ہاں یہ تو ضروری ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے۔بعض لوگ اس بات کو سنکر پھر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جبکہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے تو تیرہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتائو۔مَیں اس کا پہلا جواب یہ دیتا ہوں کہ اُن مجددوں کے نام بتانا میرا کام نہیں یہ سوال آنحضرت ﷺسے کرو۔جنہوں نے فرمایا ہے کہ ہر صدی پر مجدد آنا ہے اس حدیث کو تمام اکابرنے تسلیم کر لیا ہے ۔شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس کو مانتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی طرف سے ہے اور حدیث کی کتابیں جوموجود ہیں ان میں یہ حدیث پائی جاتی ہے کسی نے کبھی اس کوپھینک نہ دیا اور نہ یہ حدیث دینی چاہیے جبکہ یہ بات ہے تو پھر مجھ سے فہرست کیوں مانگی جاتی ہے ۔
میر ا یہ مذہب کہ عد مِ علم سے عد مِ شیئی لا زم نہیں آتا ۔ آنحضرت ﷺ کی طر ف جو منسو ب ہو اگر وہ قر آن شر یف کے بر خلا ف نہ ہو تو میں اس کی ما نتا ہو ں ۔ خو د ہی ان لو گو ں سے پو چھو کہ کیا یہ حد یث جھو ٹی ہے ؟تو پہلے اس کو نکا لو اور اگر شکی ہے تو پھر تقو یٰ کا تقا ضا تو یہ ہے کہ کم ازکم حد یث کی رو سے مجھے بھی شکی ہی ما ن لو عجیب با ت ہے حد یث کو شکی کہو اور مجھے کذاب ۔یہ تو تقو ی کا طر یق نہیں ۔ اگر بفر ض محا ل جھو ٹی ہے تو پھر جا ن بو جھ کر جھو ٹ کو آنحضرت ﷺ کی طر ف منسو ب کر نا تو لعنتی کا کا م ہے ۔ سب سے پہلا کا م تو علما ء کا یہ ہو نا چا ہیئے کہ اس کو نکا ل ڈالیں مگر میں یقین دلا تا ہو ں کہ یہ حد یث جھو ٹی نہیں ہے صحیح ہے۔ یہ عا م طو ر پر مشہور ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے نو اب صد یق حسن خا ں و غیر ہ نے ۱۳ مجذدگن کر بھی د کھا ئے ہیں مگر مَیں ان کی ضر ور ت نہیں سمجھتا ۔ اس حد یث کا یہ معیا ر نہیں بلکہ قر آن اس کی صحت کا گو اہ ہے ۔ یہ حد یث
انا نحن نذ لنا الذکر و انا لہ لحافظو ن۔( سو رت الحجر:۱۰)
کی شر ح ہے صد ی ایک عا م آدمی کی عمر کی ہو تی ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے ایک حد یث میں فر ما یا کہ سو سال بعد کو ئی نہ رہے گا جیسے صد ی جسم کو ما رتی ہے اسی طر ح ایک روحا نی