چناچہ میں نے اس کو شائع کردیا اور یہ کوئی بات نہیں کل ہندوستان اس کو جانتا ہے کہ جس طرح قبل از وقت اس کی موت کا نقشہ کھنچ کر دکھایا گیا تھا اسی طرح پورا ہو گیا۔ اس کے علاوہ بہت سے نشانات ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں اور اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا خدا تھکنے والا خدا نہیں وہ تکذیب کرنے والوں کے لیے ہر وقت تیار ہے مہں نے پنجاب کے مولویوں اور پادریوں کو ایسی دعوت دی ہے کہ وہ میرے مقابل میں آکرنشانات کو جو ہم پیش کرتے ہیں فیصلہ کرلیں اگر ان کو نہ مانیں تو دعا کر سکتا ہوں اور اپنے خدا پر یقین رکھتا ہوں کہ اور نشان ظاہر کرے دیگا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ صدق نیت سے اس طرف نہیں آتے بلکہ لیکھرامی حیلے کرتے ہیں ۱ ؎ مگر خدا تعالیٰ کسی کی حکومت کے نیچے نہیں ہے ۔ میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ پہلے ان خوارق کو جو میں پیش کرتا ہوں دیکھ لو اور منہاج ِنبوت پرسوچو۔ اگر پھر بھی تکذیب کے لیے جرات کرو گے تو خدا کی غیرت کے لیے زیادہ جنبش ہو گی اوروہ قادر ہے کہ کوئی امر انسانی طاقت سے بالاتر ظاہر کرے ۔ لیکھرام کی نسبت جب پیشگوئی کی گی تھی تو اس نے بھی میرے لیے ایک پیشگوئی کی تھی اور یہ شائع کردیا تھا کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہوجاوئے گامگر اب دیکھ لو کہ اس کی ہڈیوں کا بھی یہی نشان پایا جاتا ہے؟ مگر میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح زندہ ہوں۔ یہ امور ہیں۔ اگر حق پسند توقف سے ان میں غور کرے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر نرے بحث کرنے والے جلد باز کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۲؎ منجملہ میرے نشانوں کے طاعون کا بھی ایک نشان ہے اس وقت میں نے خبر دی تھی جبکہ ابھی کوئی نام و نشان بھی اس کا نہ پایا تھا اور یہ بھی الہام ہوا تھا یا مسیح الحق عدوانا اب دیکھ کہ یہ وبا خطرناک طور پر پھیلی ہوئی ہے اور گائوں کے گائوں اس طرف رجوع کر رہے ہیں اور توبہکرتے جاتے ہیں کیا یہ باتی انسانی طاقت کے اندر ہیں؟ یہی امور ہیں خارق عادت کہلاتے ہیں۔