اللہ تعالیٰ کے اشارے سے ہوتا ہے تاہم وہ ایسے مقامات میں جانے سے ڈرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ پھر گناہ سے کیوں نہیں ڈرتا؟ ۱؎ انسان کے اندر بہت سے گناہ ایسی قسم کے ہیں کہ وہ معرفت کی خوردبین کے سوا نظر ہی نہیں آتے جُوں جُوں معرفت بڑھتی جاتی ہے انسان گناہوں سے واقف ہوتا جاتا ہے بعض صغائر ایسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اُن کو نہیں دیکھتا لیکن معرفت کی خوردبین اُن کو دکھا دیتی ہے ۔ غرض اوّل گناہ کا علم ہوتا ہے ۔پھر وہ خدا جس نے من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ (الزلزال:۸) (فرمایا ہے)اس کو عرفان بخشتا ہے ،تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے ۔ جماعت کے قیام کی غرض اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقویٰ کم ہوگیا ہے ۔بعض تو کُھلے طور پر بے حیایئوں میں گر فتار ہیں اور فسق وفجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکیکی مُلونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا سا زہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہوجاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے (گناہ)ریاکاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ۲؎ ہوتی ہیں اُن میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کی اہے کہ دنیا کو تقویٰ اور طہارت کی زندگی کا نمونہ دکھائے ۔اسی غرض کے لیے اس نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے ۔وہ تطہیر چاہتا ہے اور ایک پاک جماعت بنانا اسکامنشاء ہے ۔ ایک پہلو تو میری بعثت اور ماموریت کا یہ ہے ۔دوسرا پہلو کسرِ صلیب کا ہے ۔کسرِ صلیب کے لیے جسقدر جوش خُدا نے مجھے دیا ہے اس کا کسی دوسرے کو علم نہیں ہوسکتا ۔صلیبی مذہب نے جو کچھ نقصان عورتوں مردوں اور جوانوں کو پہنچایا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ۔ ۳؎ہر پہلو سے اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ طبابت کے رنگ