اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔ نیکی اور شیطا ن سے ا یک قسم ہو تا ر ہتا ہے ۔ یہانتک کہ کبھی یہ غا لب ہو تا ہے اور کبھی مضلو ب ہو تا ہے ر فتہ رفتہ وہ حا لت آجا تی ہے ۔کہ یہ مطمئنّہ کے رنگ میںآجا تا ہے اور پھر گنا ہو ں سے نر می نفر ت ہی نہیںہو تی بلکہ گنا ہ کی لڑائی میں یہ فتح پا لیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلف صادر ہو نے لگتی ہیں ۔ پس اس اطمینا ن کی حا لت پر پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے لو امہ کی حا لت پیدا ہو اور گنا ہ کی شنا خت ہو حقیقت میں بہت بڑی با ت ہے جو اُس کو شناخت نہیں کر تا اس کا علا ج نبیو ں کے پا س نہیں ہے ۔ ۱ ؎ نیکی کا پہلا دروزاہ اسی سے کھلتا ہے( کہ) اول اپنی کو رانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری مجلس اور بُر ی صحبت کو چھو ڑکر طبیب کے پا س رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتا وے اس پر عمل کر نے کے لیے ہمہ تن تیا ر ہو ۔ د یکھو بیما ر جب کسی طبیب کے پا س جا تا ہے تو یہ نہیں ہو تا کہ وہ طبیب کے سا تھ مبا حثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فر ض یہی ہے وہ اپنامر ض پیش کرے اور جو کچھ طبیب اس کو بتائے ۲؎اس سے وہ فا ئد ہ اُٹھا ئے گا ۔اگراُس کے علا ج پر جر ح شروع کردے تو فا ئدہ کس طر ح ہو گا ۔
انسان کی پید ائش کی علّتِ غائی ۔
انسا ن کا فر ض ہے کہ اس میں نیکی کی طلب صاد ق ہو اور وہ اپنے مقصد زندگی کو سمجھے قر آن شر یف میں انسا ن کی زندگی کا مقصد یہ بتا یا گیا ہے ۔
ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۔ (الذار یا ت ذ:۵۷ )
یعنی جن اور انسا ن کو اس لیے پید ا کیا ہے کہ وہ میری عبا د ت کر یں۔ جب انسا ن کی پیدائش کی علت غائی یہی ہے تو پھر چا ہیئے کہ خدا کو شنا خت کر یں ۔ جب کہ انسا ن کی پیدائش کی علت غا ئی یہ ہے کہ وہ خدا تعا لیٰ کی عبا دت کرے اور عبا دت کے واسطے اول معرفت کا ہونا ضروری ہے ۔ جب سچی معرفت ہو جا وے تب وہ اس کی خلا ف مر ضی کو تر ک کرتا اور سچا مسلما ن ہو جا تا ہے ۔ جب تک سچا علم پیدا نہ ہو کو ئی مفید نتیجہ پیدا نہیں ہو تا ۔ دیکھو جن چنروں کے نقصان کو انسا ن یقینی سمجھتا ہے ان سے بجتا ہے مثلاً سم الفارہے جا نتا ہے کہ یہ ز ہر ہے اس لیے اس کو استعمال کر نے کیلے جرات اور دلیر ی نہیں کر تا کیونکہ جا نتا ہے کہ اس کا کھا نا مو ت کے منہ میں جا نا ہے ۔ ایسا ہی کسی زہر یلے سا نپ کے بل میں ہا تھ نہیں ڈالتا۔ یا طا عون والے گھر میں نہیں ٹھہرتا اگر چہ جا نتا ہے کہ جو کچھ ہو تا ہے ۔