اِس میں کیا سِرّ تھا پیدائش دونو ں کی ایک ہی جگہ کی تھی ۔ایک صدیق ٹھہرتا ہے اور دوسرا جو ابو الحکم کہلاتا تھا وہ ابو جہل بنتا ہے ۔ اس میں یہی راز تھا کہ اس کی فطرت کو سچائی کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہ تھی غرض ایمانی امور مناسبت ہی پر منحصرہیں ۔ جب مناسبت ہوتی ہے تو وہ خود معلّم بن جاتی ہے اور امورِحقہ کی تعلیم دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ مناسبت کا وجود بھی ایک نشان ہوتا ہے ۔ میں بصیرت اور یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور مَیں وہ قوت اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مشاہدہ کرتا ہوں مگر افسوس مَیں اس دُنیا کے فرزندوں کو کیونکر دکھا سکوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہوئے نہیں سُنتے کہ وہ وقت ضرور آئیگا کہ خدا تعالیٰ سب کی آنکھ کھول دے گا اور میری سچائی روزروشن کی طرح دُنیا پر کُھل جائے گی لیکن وہ وقت وہ ہوگا کہ توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور پھر کوئی ایمان سود مند نہ ہوسکے گا ۔ میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت سلیم ہَے میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہلِ حق کی عظمت ہو تی ہے ۔جسکی فطرت سلیم ہے وہ دُور سے اُس خو شبوکو جوسچائی کی میرے ساتھ ہے سُو نگھتا ہے اور اُسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مُردہ طبیعت کے ہیں اُن کو میری باتیں سود مند نہیں معلوم ہوتی ہیں وہ ابتلاء میں پڑتے ہیں اور انکا ر پر انکاراورتکذیب پر تکذیب کر کے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ اُن کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اُٹھائیں گے کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اُٹھایا ہے اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دُنیا سے اُٹھتے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے انجام سے ڈر جاوے کیونکہ مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں صادق ہوں ۔ میرا انکاراچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا ۔ مبارک وہی ہیں جو انکار کی لعنت سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں ۔ جو حُسن ظنّی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صُحبت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ان کا ایمان اُن کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے ۔ مَیں کہتا ہوں کہ صادق کی شناخت کے لیے بہت مشکلات نہیں ہیں ۔ ہر ایک آدمی اگر انصاف اورعقل کوہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدِّ نظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے ،لیکن جو تکبّر کرتا ہے اور آیات اللہ کی تکذیب کرتا ہے اس کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی ۔ سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُن پُر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت ﷺ کی عظمت کے اظہار