اور تعجب کی نظر سے دیکھتے ہو جو نشان پہلے اُس نے ظاہر کئے ہیں کیا تم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے نہیں ہیں ۔کیا وہ نشان انسانی طاقت کے اندر ہیں اور کوئی اُن کا مقابلہ کر سکتا ہے کیا منہاجِ نبوت پر وہ نشان ایک شخص کی تسلی کے لیے کا فی نہیں ہیں ۔ جو نئے نشان مانگے جاتے ہیں خدا سے ڈرو اور اس سے مقابلہ نہ کرو ۔یہ تو ظلم صریح ہے کہ اسکی آیات کی ایسی بیقدری کرو کہ ان کو تسلیم ہی نہ کرو ۔پہلے یہ فیصلہ کرو کہ آیا خدا تعالیٰ نے کوئی نشن دکھا یا ہے یا نہیں اگر دیکھا یا یے اسی طرح پر جو وہ انبیاء کے وقتوں میں دکھاتا آیا ہے تو سعادت مند بن کر اُسے قبول کرو اور اس نعمت کی قدر کرو ۔اگر کوئی نشان نہیں دکھایا گیا ہے تو مانگو بیشک مانگو میَں یقین رکھتا ہوں کہ قادر خدا نشان دکھائے گا ۔لیکن میَں جانتا ہو ں کہ اس نے ہزاروں نشان ظاہر کئے مگر ان لوگوں نے ان کو استہزاء کی نظر سے دیکھا اور کافرِنعمت ہو کر ٹال دیا اور پھر کہتے ہیں کہ اور دکھاؤ یہ اقتراح مناسب نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کامل طور پر اتمامِ حجت کرتا ہے اور اب طاعون کے ذریعہ کر رہاہے کیونکہ جن لوگوں نے رحمت کے نشانوں سے فوئدہ نہیں اُٹھایا موہ اب غضب کے نشانوں کو دیکھ لیں۔ میَں بڑی صفائی سے کہہ رہا ہوں کہ تم نے جو اسلام کو قبول کیا ہے کونسا معجزہ اس کا دیکھا تھا ۔جس قدر معجزات اسلام کے تم بیان کرو گے وہ سماعی ہو ں گے تمہارے چشمدید نہیں لیکن یہاں تو وہ باتیں موجود ہیں جن کے دیکھنے والے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں انسان ہیں ۔جو ابھی زندہ موجود ہیں ۔دو گواہوںسے ایک شخص پھانسی پا سکتا ہے ،لیکن تعجب کی بات ہے کہ یہاں لاکھوں انسان موجود ہیں جو ان نشانوں کے گواہ ہیں اور انکی شہادت کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ظلم اور حق کا خون کیا ہو گا ۔اگر خدا تر سی اور حق پسندی غر ض ہے اور جس مطلب کے لیے ہندو مذہب کو چھوڑ ۱؎کراسلام قبول کیاہے توایسے اقتراحوں سے کیا حا صل؟یہ سعادتمندی کی راہ نہیں ۔یہ تو ہلاکت کی راہ ہے کیونکہ جو اس قدر نشانات کے ہوتے ہوئے بھی پھر کہتا ہے کہ مجھے نشان دکھاؤ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ کا فر ہی مر ے گا۔ ہماری موت کے بعد اگر کوئی کہتا تو البتہ اُسے معذور سمجھ لیتے کہ اس کے سامنے جو نشانات ہیں وہ منقولی ہیں اور ان پر صدیا ں گزر گئی ہیں مگر اس وقت تو ہم زندہ مو جود ہیں ۔اور ان نشانات کو دیکھنے والے بھی زند ہ موجود ہیں ۔پھر کہا جاتا ہے کہ نشان دکھاؤ ۔ایسی ہی حالت ہو گی جب حضرت مسیح کو کہنا پڑا ہو گا کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں ۔ حقیقی میں انسان جب دیکھتا ہو انہیں دیکھتا اور سنتا ہو ا نہیں سُنتا تو اس کی حالت بہت خطر نا ک ہو تی ہے ۔میَں نہیں سمجھ سکتا کہ جب تم اس وقت اس قدرآیات اللہ کے