نشانا ت دکھا ئے جلالی اور مجالی ہر قسم کے نشان دئیے گئے پھر ان کو ردی کی طرح پھینک دینایہ تو بڑی ہی بد بختی اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بننا ہے جو آیا ت اللہ کی پروا نہیں کرتا وہ یادرکھے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نشان ظاہر ہو تے ہیں وہ ایسے ہو تے ہیں کہ ایک عقلمند خدا ترس ان کو شناخت کر لیتا ہے اور ان سے فائدہ اٹھا تا ہے لیکن جو فراست نہیں رکھتا اور خدا کے خوف کو مدنظر رکھ کر اس پر غور نہیں کرتا وہ محروم رہ جا تا ہے کیو نکہ وہ یہ چا ہتا ہے کہ دنیا دنیا ہی نہ رہے اور ایمان کی وہ کیفیت جو ایمان کے اندر موجود ہے نہ رہے ایسا خدا تعالیٰ کبھی نہیں کرتا اگر ایسا ہو تا یہودیوں کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ حضرت مسیح کا انکار کرتے موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیوںہوتا۔ اور پھر سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کو اس قدر تکالیف کیو برداشت کر نی پڑتیں خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہی نہیں کہ وہ ایسے نشان ظاہر کرے جو ایمان بالغیب ہی اٹھ جاوے ایک جاہل وحشی سنت اللہ سے ناواقف تو اس چیز کو معجزہ اور نشان کہتا ہے جو ایمان بالغیب کی مدسے نکل جاوے مگر خدا تعالیٰ ایسا کبھی نہیں کرتا ہماری جماعت کے لیے اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ نے کمی نہیں کی کو ئی شخص کسی کے سامنے کبھی شرمند ہ نہیں ہو سکتا جس قدر لوگ اس سلسلہ میں داخل ہیں ان میں سے ایک بھی جو کہہ سکے کہ مَیں نے کو ئی نشان نہیں دیکھا ۔ براہین احمدیہ کو پڑھو اور اس پر غور کرو اس زما نہ کی ساری خبریں اس میں موجود ہیں ۔ دوستوں کے متعلق بھی ہیں اور دشمنوں کے متعلق بھی اب کیا یہ انسانی طاقت کے اند ر ہے کہ تیس برس پہلے جب اس ایک سلسلہ کا نام ونشان بھی نہیں اور خوداپنی زندگی کا بھی پتہ نہیں ہو سکتا کہ میَں اس قدر عرصہ تک رہو ںگا یا نہیں ایسی عظیم الشان خبر یں دے اور پھر وہ پوری ہو جاویں نہ ایک نہ دو بلکہ ساری کی ساری براہین احمد یہ احمدی لوگوں کے گھروں میں بھی ہے عیسائیوں اورآریوں اور گورنمنٹ تک کے پاس موجود ہے اور اگر خدا کا خوف اور سچ کی تلاش ہے۔ تو مَیں کہتا ہوں کہ براہین کے نشانات پر ہی فیصلہ کرلو دیکھو اس وقت جب کو ئی مجھے نہیں جا نتا تھا اور کو ئی یہاں آتا بھی نہیں تھا ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا اس جماعت کی جو یہاں موجود ہے خبر دی اگر یہ پیشگوئی خیالی اور فرضی تھی تو پھر آج یہاں اتنی جماعت کیوں ہے ؟ اور جس شخص کو قادیان سے باہر ایک بھی نہیں جانتا تھا اور جس کے متعلق براہین میں کہا گیا تھا فحان ان تعان وتعرف بین الناس۔ آج کیا وجہ ہے کہ وہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عرب ،شام مصر سے نکل کر پورپ اور امر یکہ تک دنیا اس کو شناخت کرتی ہے اگر یہ خدا کا کلام نہیں تھا اور خدا کے منشاء کے خلاف ایک مفتری کا منصوبہ تھا تو خدا نے اس کی مدد کیوں کی ؟کیوں اس کے لیے ایسے سامان اور اسباب پیدا کر دئیے ؟کیا یہ سب مَیں نے خود بنالیے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اسی طرح پر کسی مفتری کی تائید کیا کرتا ہے تو پھر راستبازوں کی سچائی کا معیار کیا ہے تم خود ہی اس کا جواب دو ۔