ظلمِ صریح سے بچائوں کہ وہ ایک عا جز انسان کو خدا بنانے میں مبتلا ہو رہی ہے اور اس سچے اور حقیقی خدا کے سا منے ان کو پہنچا ئوں جو قادر اور مقتدر خدا ہے۔ میری فطرت میں کسی اور امر کے لیے مَیلان ہی نہیں رکھا گیا اور نہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اور کسی چیز کی حا جت میرے لیے رہنے دی ہے اس لیے میری بڑی دُعا اور آرزو یہی ہے کہ میَں اس باطل کا استیصال دیکھ لوں جو خدا تعالیٰ کی مسند پر ایک عاجز انسان کو بٹھایا جاتا ہے اور حق ظاہر ہو جاوے ۔میں اس جوش اور درد کو جو مجھے اس حق کے اظہار کے لیے دیا گیا ہے بیان کرنے کے واسطے الفاظ نہیں پاتا۔اگر یہ بھی مان لیا جاوے کہ کوئی اور مسیح بھی آسمان سے اُترنے والا ہے تو بھی میَں اپنے دل پر نظر کر کے کہ سکتا ہوں کہ جو گزازش اور جوش مجھے اس مذہب کے لیے دیا گیا ہے کبھی کسی کو نہیں دیا گیا۔ مجھے بشارت دی گئی ہے کہ یہ عظیم الشان بوجھ جو میرے دل پر ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہلکا کر دے گا اور ایک حیّ وقیوم خدا کی پرستش ہو نے لگے گی ۔ وہ خدا جو ہماری ہزاروں دعائیں قبول کرتا ہے کبھی ہو سکتا ہے کہ وہ دُعائیں جو اس کے جلال اور آنحضرت ﷺ کی بز رگی کے اظہار کے لیے ہم کر تے ہیں قبول نہ کرے ؟ نہیں وہ قبول کرتا ہے اور کر یگا ۔ہاں یہ سچ ہے کہ جس قدر عظیم الشان مر حلہ اور مقصد ہو اس قدر وہ دیر سے حا صل ہو تا ہے ۔ چونکہ یہ عظیم الشان کام ہے اس لیے اس کے حسبِ منشاء ہو نے میں ایک وقت اور مہلت مطلوب ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت قریب آرہاہے ا ور اس کی خوشبو دار ہوا ئیں آرہی ہیں اور مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ان دُعاؤں کو جو میَں ایک عر صہ دراز سے کر رہا ہوں قبول کر لیا ہے ۔ جس قدر دل بیساختہ ان ہموم وغموم میں مبتلا ہوں ۔اسی قدر اضطراب پیدا ہو تو یاد رکھنا چاہیئے کہ قبولیت کی تیاری آسمان پر ہو تی ہے کیو نکہ جب تک قبولیت کی تیاری آسمان پر نہ ہو وہ خشو ع خضوع اور درد و جوش جو حقیقی اضطراب کو پیدا کر تا ہے پیدا نہیں کر ہو سکتا ۔لیکن اس وقت جو میَں اس اضطراب اور کرب و قلق کو دل میں پاتا ہو ں مجھے کامل یقین ہو تا ہے کہ مصنوعی خدا کے خاتمہ کا وقت آگیا ہے ۔ اس وقت ان باتوں پر ایمان لانا بہت مشکل معلوم ہو تا ہے اورکوئی نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے کہ لوگ ان باتوں کو دیکھ لیں گے ۔میَں اپنے قادر خدا پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ جس بات کے لیے اُس نے میرے دل میں یہ جوش اور اضطراب ڈالا ہے وہ اس کو ضائع نہیں کرے گا اور زیادہ دیر تک دنیا کو تا ریکی میں نہیں رہنے دے گا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں لاتے یا نہیں لائے ہیں ۔ان کے نزدیک بے شک انہونی باتیں ہیں مگر جو شخص اس کی عجیب در عجیب قدرتوں اور طاقتوں کے تماشے دیکھ چکا ہو اور جس کی اپنی ذات پر ہزار ہا نشان صادر ہو چکے ہوں ۔ہاں جسنے اس کی آوازیں سنی ہوں وہ کیونکر کہہ