ہے اور معلوم ہو تا ہے کہ اس کیلئے ہدایت بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے صریح بُو آتی ہے کہ خدا کے پہلے نشانوں کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ نشانوں کی ایک حد ہو تی ہے اور ان کی شناخت کے لیے ایک قوت شامہ دی جاتی ہے جو وہ وقوت نہیں رکھتا ہے جس سے اس کو پہچانے اس کے سامنے خواہ کتنے ہی نشان ظاہر ہو ں وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔اسلام کی سچائی پر یوں تو ہر زمانہ میں لاکھوں تازہ بہ تازہ نشان ہو تے ہیں مگر کیا یہ نشان بجائے خود کم ہے کہ جس توحید کو آنحضرت ﷺ لائے ہیں اور جس شرک وبدعت کو آپ نے دُور کیا ہے دنیا میں کبھی کسی مذہب نے نہیں کیا ۔ایک عقلمند کے لیے تو یہ نشان ایسا عظیم الشان ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی لیکن ایک غبی اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ مفتری مہلت نہیں پاسکتا ایک ولی اللہ ذات کے قصاب تھے ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میَں تب مانتا ہوں اگر آپ کوئی نشان دکھائیں ۔انہوں نے اس کو کیا عمدہ جواب دیا ہے کہ باوجودیکہ تیرا خیال ہے کہ ہم ایسے ہیں اور پھر باوصف ایسے گنہگار ہونے کے تُو دیکھتا ہے کہ ہم ابتک غرق نہیں ہو گئے ۔اسی طرح پر ہم بھی کہتے ہیں کہ کیا یہ نشان ہمارا کم ہے کہ ہم کو مفتری کہاجاتا ہے لیکن پچیس سال سے بھی زیادہ سے یہ سلسلہ چلا آتا ہے اور دن بہ دن اس کو ترقی ہو رہی ہے اور ہم غرق نہیں ہو گئے ۔دانشمند اگر خدا ترس دل لے کر سوچے تو اس کے لیے یہ بھی کوئی چھوٹا سا نشان نہیں ہے جو یہ کہ دیتے ہیں کہ بہت سے مفتری بچ گئے ہیں یہ محض افتراء ہے ۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں خلاف نہیں ہو سکتا ۔کبھی کوئی مفتری مہلت نہیں پا سکتا ورنہ پھر خداتعالیٰ کے راستبازوں اور مفتریوں میں فرق کرنا مشکل ہو جائیگا۔خدا تعالیٰ کے سلطنت میں اندھیر نہیں ہے ۔اس دنیا کی سلطنت میں اگر کوئی شخص مصنوعی چپڑاسی بھی بن جاوے تو فی الفور پکڑا جاتا ہے اور اسے عبرتناک سزا دی جاتی ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکومت میں ایسا اندھیر ہو کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کا مامور ہو نے کا مدعی ہو اور جھوٹے الہام خود ہی بنا کر خلق اللہ کو گمراہ کرے اور اللہ تعالیٰ اسکی پروانہ کرے بلکہ اس کی تائید میں نشان بھی ظاہر کردے اور اس کی پیشگوئیوں کو بھی پورا کر کے دکھا وے ۔کیایہ حیرت انگیزاور تعجب کی جگہ نہیں ہو سکتا ۔خدا تعالیٰ کبھی کسی مفتری کو مہلت نہیں دیتا ۔پس اصول پر ہمارا اب تک قائم رہنا اور اس سلسلہ کو نشونما پانا اور دن بدن تر قی کرنا بھی چھوٹی سی بات نہیں ہے ۔اگر کوئی خدا تر سی سے اس پر غور کرے تو اس کے لیے کم نشان نہیں ہے مگر جس شخص کو ہزاروں دوسرے نشان فائدہ نہیں پہنچا سکے اور اُن سے اُس نے کوئی سبق نہیں سیکھا آئندہ اس سے کیااُمید ہو سکتی ہے ؟