قانون قدرت تو بدل نہیں جائے گا ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلاً (الفتح :۲۴) پس یہ بڑی بدبختی ہے کہ دنیا کے کا موں میں عقل سے کام لیتا ہے لیکن دین کے کاموں میں عقل کوبیکار اور معطل کر دیتا ہے یہ خطرناک مرض ہے اس کاعلاج یہی ہے کہ کثرت سے استغفار کرتا رہے نیک صبحت میں رہے اور دعاؤں میں لگا رہے اگر یہ نہیں کرتا تووہ ہلاک ہو جاوے گا اللہ تعالیٰ اس کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا لیکن جو صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ خدا کی طرف قدم اٹھا تا ہے اور اس راہ میں تھکتا اور گھبرا تا نہیں دعاؤں میں لگا رہتا ہے امیدہے کہ وہ ایک دن گوہر مقصود کو پالے ۔ (الحکم جلد ۸نمبر ۱۸ صفحہ ۲۔۳مورخہ۳۱ مئی ۱۹۰۴ئ؁) اپریل کے آخری ایام مامور اور نشان نمائی (سنت اللہ سے ناواقف ہو نا بھی ایک موت ہے کیو نکہ اس جہالت کی وجہ سے بعض اوقات انسان خدا تعالیٰ کے مامور وں برگزیدوں کے سامنے ایسی جزأت اور شوخی کر بیٹھتا ہے جو اسے قبول ِحق سے محروم کردیتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری نہ کرے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور بعض اوقات ایسے لوگ بھی آجاوتے ہے چنانچہ اواخر اپریل میں ایک نومسلم یہاں آیا اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور بڑی دلیری سے نشان بینی کی درخواست کی جس پر حضرت اقدس نے فر ما یا :۔ ہر ایک مامور کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ ڈالا جاتا ہے وہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا کیو نکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تا ہے اور یہی بالکل سچ ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کو دنیا میں مامور کر کے بھیجتا ہے تواس کی تائید میں خارق عادت نشان بھی ظاہر کرتا ہے چنانچہ اس جگہ بھی اس نے میری تائید کے لیے بہت سے نشان ظاہر کئے ہیں جن کو لاکھوں انسانوں نے دیکھا ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں ۔تاہم میں اپنے خدا پرکامل یقین رکھتاہوں کہ اس نے انہیں نشانوں پرحصر نہیں کیا اور آئینداس سلسلہ کو بند نہیں کیا وقتاً فوقتاًوہ اپنے ارادہ سے جب چاہتا ہے نشان ظاہر کرتا ہے ۔ایک طالبِ حق کے لیے وہ نشان تھوڑے نہیں ہیں مگر اس پر بھی اگردل شہادت نہ دے کہ ایک شخص واقعی طالبِ حق ہے اور صدقِ نیت سے وہ نشان کا خواہشمند ہے تو ہم اس کے لیے توجہ کر سکتے ہیں اور اللّٰد تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ کوئی امر ظاہر کردے لیکن اگر یہ بات نہ ہو اور خداتعالیٰ