ساتھ یہ بھی ما ننا چاہیئے کہ وہ غنی بھی ہے اگر ساری دنیا اتقی قلب لے آوے تو اس کی الوہیت کی شان ایک ذرہ بھر بھی بڑھ نہ گئی اور اگر تقی نہ ہو تو اس اسے کچھ کم نہ ہو گا اس لیے طالب ِصادق کا پہلا کام یہ ہونا چاہیئے کہ وہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غنی بے نیاز ہے اسکو حاجت اس امر کی نہیں اسکی طرف رجوع کروں بلکہ مجھے حاجت اور ضرورت ہے کہ اسکی طرف رجوع کرو ں اور اسکے آستا نہ الو ہیت پر گروں جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا کو میری حاجت نہیںمجھے خدا کی حاجت ہے تو اس میں ایک طلب صادق کا جوش پیدا ہو تا ہے اور وہ خدا کی طرف رجوع کر نے لگتا ہے پس اگر کو ئی میرے پاس آتا ہے تواسے بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ میرا کام تو صرف پہنچا دنیا ہے منوا دنیا میرا کام نہیں اگر کو ئی اپنی بھلائی اور بہتر ی چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مَیں نے ایک دن مرنا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے تواس کا فرض ہو نا چاہیئے کہ صبر اور صدق کے ساتھ اس راہ کو تلاش کرے اور گھبرا ئے اور تھکے نہیں لیکن جب کو ئی حد سے زیادہ شرارت کرتا ہے اور اللہ تعا لیٰ کی باتوں پر ہنسی کرتا اور انہیں ٹھٹھے میں اڑانا چاہتا ہے تواس کا علاج اس نے اور رکھا ہوا ہے اب بھی یہی ہو رہا ہے اور ہو نے والا ہے اور کیڑوں کی طرح لوگ مررہے ہیں اور مریں گے۔
دیکھو دس روپیہ کا مقدر بھی ہو تو انسان اپنی عقل پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے مشورہ لیتا ہے اور ان پر بھروسہ کرتا ہے پھر وکیل تلاش کرتا ہے وکیل بھی اعلیٰ درجہ کا پھر حکام رس لوگوں کی تلاش کرتا ہے اور ان کی خوشامد کرتا اور جائز و نا جائز وسائل کے استعمال سے بھی نہیں چو کتا جب ایک تھوڑی سی متاع کے لیے وہ اس قدر جدوجہد اور کوشش کرتا ہے پھر اسے شرم کر نی چاہیئے کہ دین کے لیے اس کا دسوان حصہ بھی سعی نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اسرار دن اس پر کھل جاویں اور وہ دم زدن میں ولی بن جاوے چند منٹ کے لیے ایک شخص ہماری مجلس میں آکر بیٹھتا ہے اور با ہر نکل کر فتویٰ دیتا ہے کہ مَیں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے یہ سب کچھ دکا نداری ہے ہم ایسے فتووں اور ایسی راؤں کی کیا پروا کریں گے کیو نکہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور الہام کے مقابلہ میں جو روشن نشانوں اور دلا ئل کے ساتھ ہو رہا ہے ایسی بے سروپاراؤں اور فتووں کی کیا دقعت ہو سکتی ہے مگر ایسی رائے دینے والے کو مرنے کے بعد پتہ لگ جاوے گا کہ ان کے فتووں کی کیا حقیقت ہے اس وقت سارے پردے اور حجاب اٹھ جاویں گے اور حقیقت کھل جاوے گی مَیں دنیا کی حالت پر سخت تعجب اور افسوس کرتاہوں کہ اگر کسی کو کہہ دیا جاوے کہ تجھے جزام کا اندیشہ ہے تو وہ طبیت تلاش کرتا ہے اور نسخے پر نسخہ استعمال کرتا چلا جاتا ہے لیکن مَیں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی بیماری کے لیے تو یہ جدوجہد کی جاتی ہے پر اس کے مقابلہ پر دین کے لیے کو ئی فکر اور کو شش نہیں کی جاتی جو ئندہ یا بندہ ایک عام مثل سے مگر اس کے لیے یہ بھی تو ضروری ہے کہ جو سچی تلاش اور طلب کا حق ہے وہ ادا کرے یہ تو نہیں