کھا سکتی ہے پھر اگر یہ اس سے بچے تو مختلف قسم کی آندھیاں اس پر چلتی ہیں اور اس کو اکھاڑنے کی کو شش کر تی ہیں ،لیکن اگر وہ ان سے بچ رہے تو پھر کہیں جا کر اسے پھول لگتے ہیں اور پھر وہ پھول بھی ہوا سے گر تے ہیں اور کچھ بچتے ہیں آخر الا مر پھل لگتا ہے اور اس پر بھی بہت سی آفتیں آتی ہیں کچھ یو نہی گرِجاتے ہیں اور کچھ آندھیوں میں تباہ ہو تے ہیں ۱ ؎ جو پکتے ہیں اور کھا نے کے کام آتے ہیں ۔ اسی طرح پر ایمانی درخت کا حال ہے اس سے پھل کھا نے کے لیے بھی بہت سی صعوبتوںاور مشکلات میں ثابت قدم رہنا ضروری ہے صوفی بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ جب تک موت نہ آوے زندگی حاصل نہیں ہو تی ۔قرآن ِشریف نے صحابہؓ کی تعر یف کر تے ہو ئے فر مایا ہے منھم من تضی نحبہ ومنھم من ینتظر(الا خزاب:۲۴) یعنی بعض صحابہؓ میں سے ایسے ہیں جو اپنی جان دے چکے ہیں اور بعض ابھی منتظر ہیں جب تک اس مقام پر انسان نہیں پہنچتا بامراد نہیں ہو سکتا ۔ دوقسم کے آدمی دراصل جان سلا مت لے جاتے ہیں ایک وہ جودین العجائز رکھتے ہیں یعنی جیسے ایک بڑھیا عورت ایمان لا تی ہے کہ اللہ ایک محمدؐ برحق ہے وہ اسرارِ شریعت کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ہے اور ایک وہ لوگ ہو تے ہیں نجو سلوک کی راہ اختیار کرتے ہیں بڑے بڑے خونخوار دشت وبیابان ان کی راہ میں آتے ہیں مگر وہ ہزاروں مو تیں برداشت کر کے پہنچ جاتا ہے ۔ اس کی جوانمردی اور ہمت قابل تعریف ہے لیکن ایک اَور گروہ ہو تا ہے جو نہ تو دین العجائز اختیار کرتا ہے اور نہ اس راہ کو اختیار کر کے انجام تک پہنچا تا ہے بلکہ اس دشت خونخوار میں پڑ کر راستہ ہی میں ہلاک ہو گیا ایسے لوگ وہی ہو تے ہیں جو مکر اللہ کے نیچے آجا تے ہیں غرض اس راہ کا طے کر نا بہت ہی مشکل ہے اس کے لیے چاہیئے کہ دعا میں مشغول ہو اور قرآن شریف کو پڑھ کر دیکھتے رہو کہ آیا اس کے حکموں پر چلتے ہو یا نہیں جس حکم پر نہیں چلتے اس پر چلنے کے لیے مجاہدہ کرو اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ تو فیق دے ۔ غرض اعمال صالحہ بڑی چیز ہے قرآن شریف کو دیکھ لو جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے اسے اعمال صالحہ سے وابستہ کیا ہے اس میں متوجہ ہو کر خدا تعالی راضی ہو جاوے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں ۔ (البدرجلد ۳نمبر ۱۸،۱۹ صفحہ ۱۰مورخہ۸؍۱۶ مئی ۱۹۰۴ئ؁) نیز (الحکم جلد ۸نمبر ۱۴،۱۵ صفحہ ۲ مورخہ ۳۰؍ اپریل ویکم مئی ۱۹۰۴ئ؁ ونمبر ۱۶ صفحہ۱۶ صفحہ امورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۴ئ)