ضرورت ہے اور نہ کسی اَور شئے کی ۔
(البدرجلد ۳نمبر ۱۸،۱۹ صفحہ ۳،۴ مورخہ۸؍۱۶ مئی ۱۹۰۴ئ)
۲۸ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ
مومن کی نظر اعمال صالحہ پر ہو نی چاہیئے۔
ایک نوجوان نے اپنے کچھ رؤیا اور الہامات سنا نے شروع کئے جب وہ سنا چکا تو آپ نے فر مایا ۔
مَیں تمہیں نصیحت کے طورپر کہتا ہوںاسے خوب یاد رکھو کہ ان خوابوں اور الہامات ہی پر نہ رہو بلکہ اعمال صالحہ میں لگے رہو بہت سے الہامات اور خواب سنیر وپھل کی طرح ہو تے ہیں جو کچھ دنوں کے بعد گر جاتے ہیں اور پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے ۔اصل غرض اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور بے ریا تعلق ۔اخلاص اوروفاداری ہے جو نرے خوابوں سے پوری نہیں ہو سکتی مگر اللہ سے کبھی بے خوف نہیں ہو نا چاہیئے جہاں تک ہو سکے صدق واخلاص وترک ِریا وترکِ منہیات میں ترقی کر نی چاہیئے اور مطالعہ کرتے رہو کہ ان باتوں پر کس حدتک قائم ہو اگر یہ باتیں نہیں ہیں تو پھر خوابیں اور الہامات بھی کچھ فائدہ نہیں دیں گے بلکہ صوفیوں نے لکھاہے کہ اوائل سلوک میں جو رؤیا یا وحی ہو اس پر تو جہ نہیں کر نی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے انسان کی اپنی خوابی اس میں تو کو ئی نہیں کیو نکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہیء جووہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھا وے یا کو ئی الہام کرے اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم عیہ السلام کو بہت وحہ ہواکرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں گیا گیا کجہ اس کو یہ الہام ہوایہ وحی ہو ئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا کہ
ابراہیم الذی وفی ۔
وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھا یا ۔یا یہ کہ
یا براہیم قد صدقت الرویا انا کذالک نجزی المحسنین(الصافات:۱۰۶)
یہ با ت ہے جوانسان کو حاصل کر نی چاہیئے اگر یہ پیدا نہ ہو تو پھر رؤیا والہام سے کیا فائدہ ؟مومن کی نظر ہمیشہ اعمال صالحہ پر ہو تی ہے اگر اعمال صالحہ پر نظر نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ وہ مکر اللہ کے نیچے آجائے گا ہم کو تو چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لیے ضرورت ہے اخلاص کی ،صدق ووفاکی،نہ یہ کہ قیل وقال تک ہی ہماری ہمت وکوشش محدود ہو جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض وبرکات کے دروازے کھول دیتا ہے اور رؤیا اور وحی کو القاء شیطانی سے پاک کردیتا ہے اور اضغاث احلام سے بچالیتا ہے پس اس بات