عفت اور خداترسی اور خدا شناسی بالکل اُٹھ گئی تھی ۔دین کی باتوں پر ہنسی کی جاتی تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبان پر کیا تھا کہ مسیح موعود کے وقت دنیا میں میں مری بھیجوں گا اس طاعون کو اصلاحِ خلق کے لیے مسلط کیا ہے۔طاعون کو برا کہنا بھی گناہ ہے یہ تو خدا تعالیٰ کا ایک مامور ہے ۔ جیسا کہ مَیں نے ہاتھی والی رؤیا میں دیکھا تھا،لیکن مَیں دیکھتا ہوں کہ باوجود اسکے کہ بعض دیہاتبالکل برباد ہو گئے ہیں اور ہر جگہ یہ آفت برپا ہے تو بھی ان شوخیوں ،شرارتوں اور بیباکیوں میں فرق نہیں آیا جو اس سے پہلے بھی تھیں مکروفریب ،ریاکاری بدستور پھیلی ہو ئی ہے ۔ (الحکم جلد ۸نمبر ۱۶ صفحہ ۱ مورخہ ۱۷؍ مئی ۱۹۰۴ئ)
۲۳؍اپریل ۱۹۰۴ء
ایک شخص نے حفاظتِ طاعون کے لیے دعا کی دوخواست کی ۔فر مایا کہ:۔
اول اپنے اعمال دوست کرو۔پھر دعا کا اثر ہو گا ۔
مکر اللہ
مکر اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان کی باریک در باریک ترابیر اور تجاویز آخرکار خدا کی تجاویز غالب آجاویں اور انسان کو ناکامی ہو اگر کو ئی کتاب اللہ سے اس فلاسفی کو نہیں مانتا تو دنیا میں بھی اس کی نظیر موجود ہے اوراس کے ا سرار پائے جاتے ہیں چور کیسی باریک در باریک تدابیر کے نیچے اپنا کام اور اپنی حفاظت کرتا ہے لیکن گو رنمنٹ نے تجوویز باریک در باریک اس کی گر فتاری کی رکھی ہیں آخر وہ غالب آجاتی ہیں تو خدا کیوں غالب نہ آوے ۔
رعایت اسباب ضرروی ہیَ
اگر چہ سوائے اذن الہیٰ کے کچھ نہیں ہو تا مگر تا ہم احتیاط کر نی ضروری ہے کیو نکہ اس کے لیے بھی حکم ہی ہے احادیث میں جو متعدی امراض کے ایک دوسرے سے الگ جانے کی نفی ہے اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امور مشہودہ اور محسوسہ کا انکار کیا جاوے اس سے کو ئی یہ نہ دھوکا کھا وے کہ ہمارا اعتقاد
قال اللہ وقال الرسول
کے برخلاف ہے ہر گز نہیں بلکہ ہم تو قرآن شریف کی اسباب کر نی قدیم سنت انبیاء کی ہے جیسے کہ آنحضرت ﷺ جنگ میں جا تے تو خود زرہ وغیرہ پہنتے خندق کھو دتے ،بیماری میں دوائیں استعمال کرتے ۔اگر کو ئی ترک ِاسباب کرتا ہے تو وہ خدا کا امتحان کرتا