یہ لفظ پیا را ہے اور آنحضرتﷺ کی اندرونی پا کیزگی پر دلیل ہے وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عاشقِ رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کررہے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پاکر تدارک کرتے ہیں ۔یہ کیفیت ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجذوم القلب لو گوں کو سمجھائیں ان پروارد ہو تو وہ سمجھیں جب ایسی حالت ہو تی ہے احسانات ِالہیہٰ کی کثرت آکر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر استغفار کے ذریعہ اپنے قصور شکر کا تدارک کرتی ہے یہ لوگ خشک منطق کی طرح اتنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ قویٰ جن سے کو ئی کمزوری یا غفلت صادر ہو سکتی ہے وہ ظاہر نہ ہوں نہیں وہ ان قویٰ پر تو فتح حاصل کئے ہو ئے ہو تے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کر کیاستغفار کرتے ہیں کہ شکر نہیں کر سکتے یہ ایک لطیف اور اعلیٰ مقام ہے جس کی حقیقت سے دوسرے لوگ نا آشنا ہیں اس کی مثال ایسی ہی جیسے حیوانات گدھے وغیرہ انسانیت کی حقیقت سے بے خبر اور ناواقف ہیں اسی طرح پر انبیاء ورسل کے تعلقات اور ان کے مقام کی حقیقت سے دوسرے لوگ کیا اطلاع رکھ سکتے ہیں یہ بڑے ہی لطیف ہو تے ہیں اور جس جس پر قدر محبت ذاتی بڑھتی جاتی ہے اسی قدر یہ اور بھی لطیف ہو تے جاتے ہیں دیکھو حضرت یوسفؑ نے صرف یہی کیا تھا کہ تم بادشاہ سے میرا ذکر بھی کر نا صرف اتنی بات یہ ایک عرصہ تک زندان میں رہنا پڑا حالا نکہ عام نظرمیں یہ ایک معمولی سی بات ہو سکتی ہے مگر نہیں یہ ان تعلقات ِمحبت کے منافی تھی ۔غرض یہ ایک لطیف سرِہے جس پر ہر ایک مطلع نہیں ہو سکتا ۔یہی مقام ہے جس کی طلب ہر ایک کو کرنی چاہیئے ۔ برکریماں کا رہا دشوار نسبیت (الحکم جلد ۸نمبر ۱۴،۱۵ صفحہ ۱،۲ مورخہ ۳۰؍اپریل ،۱۰ مئی ۱۹۰۴ئ؁) ۲۱؍ اپریل ۱۹۰۴؁ء انت منی بمنز لۃ عرشی یہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی تازہ وحی ہے عرش کے متعلق ۲۱؍ اپریل کی شام کو فر ما یا کہ :۔