شیطان کے حملوں سے بچ جاتے ہیں مگر میرے نزدیک وہ بھی کا مل نہیں ہیں۔ان کے دل میں بھی غیر ہے اگر غیر نہ ہو تا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے ۔انسان معرفت اور سلوک میں اس وقت کامل ہو تا ہے جب کسی نوع اور رنگ کا غیر ان کے دل میں نہ رہے اور یہ فرقہ انبیاء علیہم السلام کا ہوتا ہے یہ ایسا کامل گروہ ہو تا ہے کہ اس کے دل میں غیر کا وجود بالکل معدوم ہوتا ہے ۔ محبت ذاتی کا مقام اصل بات یہ ہے کہ غیر کے وجود کا لعدم سمجھنا یہ بھی اختیار ی نہیں ہے کیو نکہ یہ حالت عشقیہ ہے جواز خود پیدا نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی جڑمحبت ذاتی ہے جب محبت ذاتی کے مقام پر انسان پہنچتا ہے تو پھر یہ عشقیہ حالت پیدا ہو کر غیر کے وجود کو جلا دیتی ہے اور پھر کسی کے مدح وذم یاعذاب وثواب کی بھی پروا نہیں ہوتی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کبھی کبھی اپنی مدح بھی سن لیا کرتے تھے لیکن اس سے یہ سمجھ لینا کہ آپ کو اس مدح کی پروا ہو تی تھی سخت غلطی ہے آپ کوان باتوں کا کوئی احساس نہیں ہوتا تھا اور کوئی اثر اس کا آپ پر نہیں ہو سکتا تھا ایک محل ِمدح ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کو ہلاک کر دیتا ہے لیکن آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ تعلق اور رشتہ تھا کہ کسی دوسرے کی سمجھ میں بھی نہیں آسکتا تھا پس آپ کسی انسان کی مدح سے کیا خوش ہو سکتے تھے ایساہی ذم کاحال ہے آپ تو اللہ تعالیٰ کی محبت ِذاتی میں ففاہو چکے تھے خارجی احساس باقی ہی نہیں رہا تھا اس لیے سارے مقام ختم چکے تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جومقامِ امن کہلاتا ہے زاہد خشک کی مدح کرنے والا اس کو ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس مدح سے خوش ہو کر اپنے وجود کو بھی شئے سمجھنے لگتا ہے اور اپنے اعمام پر ایک ناز کر نے لگتا ہے مگر یادرکھو کہ یہ مراتب بھی وہبی ہیں کو شش سے نہیں ملتے اورانسان کامل اسی کقام پر ہو تا ہے صوفی کہتے ہیں کہ جب تک محبت ِذاتی نہ ہو جاوے ایسی محبت کہ بہشت اور دوزخ پر بھی نظر نہ ہواس وقت تک کامل نہیں ہوتا اس سے پہلے اس کا خدا بہشت اور دوزخ ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے لیے اعلوا ماشئتم (حم السجدۃ:۴۱) کا حکم ہوتا ہے کیو نکہ ان کی رضا خدا کی رضا ہوتی ہے جبتک یہ حال نہ ہو اندیشہ ہوتا ہے کہ نیکی ضائع نہ ہو جاوے ۔ ذاتی محبت والے سے اگر اس کی غرض پوچھی جاوے کہ تو کیوں خدا کی عبادت کرتا ہے تووہ کچھ بھی بتا نہیں سکتا کیو نکہ اسے کوئی ذاتی غرض محسوس ہی نہیں ہو تی بلکہ اگر اس کے لیے دوزخ کی وعید بھی ہو تواگر عبادت کرے گا تودوزخ ملے گا تب بھی وہ رک نہیں سکتا کیو نکہ اس کے رگ وریشہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت اور محبت ہو تی ہے وہ بے اختیار ہو کر اس کی طرف کھنچا شچلا جاتا ہے اسے نہیں معلوم کہ کیوں کھنچا جاتا ہے یہی وجہ ہے