امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون(یوسف:۲۲)
یوسف علیہ السلام کا قصّہ ہی دیکھو کہ سب بھائی مصیبت زدہ ہوکر اُسی کے سامنے پیش ہوتے ہیں لیکن اُسے شناخت نہیں کر سکتے ۔اگر یہ ہمارا مقدمہ ایک انسانی کاروبار ہوتا تو سب سے اوّل بیزارہونے والا اس سے میَںہوتا مگر جبکہ اس کے قدم قدم پر خدا کا الیام ہوتاہے اسی کی ایک سے ایک امر ہے ۔
فرمایا:۔
رابعہ بصری کو اسی دن غم ہوتا تھا ۔ جس دن خدا کی راہ میںانہیں کوئی غم نہ ہوتا مومن کسی نہ کسی ابتلاء میں ضرور رہتا ہے ؎
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ ـ ۔’۔ نہ سہی وصل توحسرت ہی سہی
زندگی بڑھانے کے لیے ایسے کام کرنے چاہئیں جو خدا کی راہ میں ہوں۔ وہ احمق ہیں جو دُنیا کو معشوق ومحبوب بنالیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ آخر اُسے کیا کام آنا ہے ۔
(البدر جلد ۳نمبر ۱۸۔۱۹ صفحہ ۸؍۱۶ مئی ۱۹۰۴ئ)
۱۹؍اپریل کی شام
زندگی کی اصل غرض
ـِِ’’زندگی کے فیشن سے بہت دوُر جا پڑے ہیں ‘‘۔
یہ الہام آج اعلیٰحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا تھا ۔اس پر فر مایا کہ ۔
زندگی کی اصل غرض اور مقصود تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے مگر اس وقت مَیں دیکھتا ہوں کہ عام طور پر لوگ اس غرض اور مقصود کو فر اموش کر چکے ہیںاور کھانے پینے اور حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے سوااَور کو ئی مقصود نہیں رہا ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا کو پھر اس کی زندگی کی غرض سے آگا ہ کرے اور یہ ففاء ِقہری اس کو رجوع کرائے گی۔
خوف ِخدا
اس لیے ہر شخص کو چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوف کرے اور اللہ تعالیٰ کاخوف اس کو بہت سی نیکیوں کا وارث بنائے گا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے