اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب ِکشش نہ تھے لیکن آنحضرتﷺ نے بنا دی با ت یہ ہے کہ جسے خدا تعالیٰ بھیجتا ہے اس کے اندر ایک ترقی مادہ رکھاہوا ہو تا ہے پس جو شخص محبت اور اطاعت میں اس کے ساتھ ترقی کرتا ہے تواس کے ترقی مادہ کی وجہ سے اس کے گناہ کی زہر دور ہو تی ہے اور فیض کے تر شحات اس پر بھی گرنے لگتے ہیں اس کی نماز معمولی نماز نہیں ہو تی یادرکھو کہ اگر موجودہ ٹکروں والی نماز ہزار برس بھی پڑھی جاوے تو ہر گز فا ئدہ نہ ہو گا نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے نماز کا حق ادا کر نے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گرِپڑی ہے اگر طبیعت میں قبض اور بد مزگی ہو تو اس کے لیے بھی دعا ہی کر نی چا ہیئے کہ الہیٰ تو ہی اسے دور کر اور لذت اور نور نازل فر ما جس گھر میں اس قسم کی نماز ہو گی وہ گھر کبھی تبا ہ نہ ہو گا حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہو تی تو وہ قوم کبھی تبا ہ نہ ہو تی حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے روزہ بھی مشروط ہے زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ہر روز پا نچ دفعہ ادا کر نے کا ہے اس لیے جب تک پوری پوری نماز نہ ہو گی تو وہ بر کا ت بھی نہ ہو ں گی جو اس سے حاصل ہو تی ہے اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہو گا اگر بھوک یا پیاس لگی ہو تو ایک لقمہ یا ایک گھونٹ سیری نہیں بخش سکتا پوری خوراک ہو گی تو تسکین ہو گی اسی طرح نا کارہ تقویٰ ہر گز کام نہ آئے گا خدا تعالیٰ انہیں سے محبت کرتا ہے جواس سے محبت کر تے ہیں لن تنالوالبر حتی تنفقو مما تحبون(الِ عمران :۹۳) کے یہ معنے ہیں کہ سب سے عزیز شئے جان ہے اگر مو قعہ ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دیدی جاوے نماز میں اپنے اوپر جو موت اختیار کرتا ہے وہ بھی بِرکو پہنچتا ہے ۔ (البدر جلد ۳نمبر ۱۱ صفحہ ۸،۹ مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۴؁ئ) ۱۹ اپریل ۱۹۰۴؁ء دُعا کی توفیق بھی خدا سے ملتی ہے باوجود اس کے کہ انسان اپنے نفس کے اندر اختیار اور قدرت کا ایک نادہ پاتا ہے مگر پھر بھی وہ الہیٰ قدرت کے تصرفات سے باہر نہیں ہے اور اسے ہروقت اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام قوتوں اور قدرتوں کا سر چشمہ جو اللہ کریم کی ذات ہے وہ اس سے قوت طلب کرے اس طلب کر نے میں بھی اسے خدا تعا لیٰ کے فضل کی خاص ضرورت ہے