میں یہ بات آسکتی تھی مگر تا ہم لوگ اس دھوکہ میں آگئے ۔اس کا باعث عیسائیوں کی شرارت ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی ایک بڑا حصّہ اس کا اس طرح سے لیا ہو ہے کہ مسیح کو تو آسمان پر زندہ مانااور آنحضرت ﷺ کو زیر زمین دفن شدہ تسلیم کیا اوراس طرح سے ایک پہلو اور بات میں یہ خود عیسائیوں کی مدد کر رہے ہیں اور ان کا ایک دست وبازو نبے ہوئے ہیں اوّل تو قرآن شریف کے بر خلاف ایک بات کرتے ہیں اور پھر وہ بات جس سے عیسائیوں کو تقویت ہو۔قرآن شریف پیش کرتے ہیں کہ اس میں اس لا آسمان پر اُٹھایا جانا لکھا ہے حالانکہ قرآن شریف تو بڑے زور سے اس کی وفات ثابت کرتا ہے فلما توفیتنی کنت انت الر قیب علیھم (المائدہ:۱۱۸) اور قد خلت من قبلہ الرسل (اٰل عمران: ۱۴۵) اور الم نجعل الاضکفاتا(المرسلات:۲۶) وغیرہ بہت سی آیات ہیں جن سے وفات ثا بت ہو تی ہے پھر کمبخت نادان ایک اور بات کہتے ہیں کہ صرف مسیح اور اس کی ماں مَسِّ شیطان سے پاک ہیں ۔یہ اصل میں آنحضرت ﷺکو گالی دینا ہے کہ ایک نبی اسرائیل کی عورت مریم تو مَسِ شیطان سے پاک ہو اور نعوذبا للہ آنحضرتﷺ اس سے پاک نہ ہوں اگر یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ علیہم کے زمانہ میں ہو تے اور یہ بات کہتے تو پھر دیکھتے کہ اس بے ادبی کی کیا سزا پا تے مسیح اور مریم کو مَس ِشیطان سے پاک قرار دینے کی وجہ اصل بات یہ ہے کہ حضرتمسیح اور ان کی ماں مریم پر یہود کا اعتراض تھا مسیح کو وہ لوگ نا جائز ولا دت کا الزام لگا تے اور مریم کو زانیہ کہتے تھے قرآنِ شریف کا کام ہے کہ انبیاء پر سے اعتراضات کو رفع کرے اس لیے اس نے مریم کے حق میں زانیہ کی بجا ئے صدیقہ کا لفظ رکھا اور مسیح کومس ِشیطان سے پاک کہا اگر ایک محلہ میں صرف ایک عورت کا تبر یہ کیا جاوے اور اس کی نسبت کہا جاوے کہ وہ بد کار نہیں ہے تو اس سے یہ الزام لا زم نہیں آت کہ باقی کی سب ضرور بد کا ر ہیں صرف یہ معنے ہوع تے ہیں ۔ کہ اس پر الزام ہے وہ غلط ہے یا اگر ایک آدمی کو کہا جاوے کہ وہ بھلا مانس ہے تو اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہو تے کہ با قی کے سب لوگ بھلے مانس نہیں بلکہ بد کار ہیں اسی طرح یہ ایک مقدمہ تھا کہ مسیح اور اس کی ماں پر الزام لگا ئے گئے تھے خدا نے شہادت دی کہ وہ الزاموں سے بَری اور پاک ہیں کیا عدالت اگر ایک ملزم کو قتل کے مقدمہ میں بَری کر دے تو اس سے یہ الزام آوئے گا کہ باقی سب لوگ اس شہر کے ضرور قاتل اور خونخوار ہیں غرضیکہ اس قسم کی بدعات اور فساد پھیلے ہو ئے تھے جن کے دور کر نے کے لیے خدا نے ہمیں مبعو ث کیا ہے ۔ دوسری با ت یہ ہے کہ تقویٰ ،طہارت ،خدا کی طرف رجوع ،خدا کی محبت اور ہر بد کاری کے وقت