ان لو گوں کو جگہ دو ننے آدمیوں کی تو خدا تعالیٰ نے اول ہی سے سفارش کر رکھی ہے جیسے براہین میں یہ الہام موجود ہے کہ کثرت سے لوگ تیرے پاس آویں گے توان سے تنگدل نہ ہو نا۔ استقامت بعد ازاں چند احباب نے بیعت کی جس پر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر ایک ایسے شخص کے سوال پر فر ما ئی جس نے حضور سے استقامت کے لیے دعا کی در خواست کی تھی فر ما یا کہ استقامت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہم نے دعا کی ہے اور کر یں گے لیکن تم بھی خدا تعالیٰ سے استقامت کی تو فیق طلب کرو استقامت کے یہ معنے ہیں کہ جو عہد انسان نے کیا ہے اسے پورے پر نبھا وے یادرکھو کہ عہد کر نا آسان ہے مگر اس کا نبا ہنا مشکل ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ باغ میں تخم ڈالنا آسان مگر اس کے نشوونما کے لیے ہر ایک ضروری بات کو ملحوظ رکھنا اور آبپاشی کے اوقات پر اس کی خبر گیری کر نی مشکل ہے ایمان بھی ایک پورا ہے جسے اخلاص کی زمین میں بو یا جا تا ہے اور نیک اعمال سے اس کی آبپاشی کی جا تی ہے اگر اس کی ہر وقت اور موسم کے لحاظ سے پوری خبر گیری نہ کی جاوے توآخر کار تباہ اور برباد ہو جاتا ہے دیکھو باغ میں کیسے ہی عمدہ پودے تم لگاؤ لیکن اگر لگا کر بھول جا ؤ اور اسے وقت پر پا نی نہ دو یا اس کے گرد باڑ نہ لگا ؤ تو آخر کار نیتجہ یہی ہو گا یا تو وہ خشک ہو جاویں گے یا ان کو چورلے جاویں گے ایمان کا پودا اپنے نشوونما کے لیے اعمال صالحہ کو چاہتا ہے اور قرآن شریف نے جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں اعمال صالحہ کی شرط لگا دی ہے کیو نکہ جب ایمان میں فساد ہو تا ہے تو وہ ہر گز عند اللہ قبولیت کے قابل نہیں ہو تا جیسے غذا جب با سی ہو یا سڑ جاوے تو اسے کو ئی پسند نہیں کرتا اسی طرح ریا ،عجب ،تکبر ایسی باتیں ہیں کہ اعمال کو قبولیت کے قابل نہیں رہنے دتیں کیو نکہ اگر اعمال نیک سرزد ہو ئے ہیں تو وہ بند ے کی اپنی طرف سے نہیں بلکہ خاص خدا کی فضل سے ہو ئے ہیں پھر اس میں کیا تعلق کہ وہ دوسروں کو خوش کر نے کے لیے ان کو ذریعہ ٹھہرا تا ہے یا اپنے نفس میں خود ہی ان سے کبر کرتا ہے جس کا نام عجب ہے خلق الا نسان ضعیفا(النسائ:۲۹) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس میں بذاتِخود کو ئی قوت اور طاقت نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ خود عطا نہ فر ما ئے اگر آنگھیں ہیں اور تم ان سے دیکھتے ہو یا کان ہیں اور تم ان سے سنتے ہو یا زبان ہے اور تم اس سے بو لتے ہو تو یہ سب خدا کا فضل ہے کہ یہ سب قویٰ اپنا اپنا کام کر رہے ہیں وگرنہ اکثر لوگ مادرزاد اندھے یا بہرے یا گو نگے پیدا ہو تے ہیں بعض بعد پیدا ئش کے دوسرے حوادثات سے ان نعمتوں سے محروم ہو جا تے ہیں مگر تمہاری آنگھیں بھی نہیں دیکھ سکتیں جب تک روشنی نہ ہو اور کان نہیں سن سکتے جب تک ہوا نہ ہوا پس اس سے سمجھنا چا ہیئے کہ جو کچھ دیا گیا ہے جب تک آسمانی تا ئید اس کے ساتھ نہ ہو تب تک