نکلا اسے تم کیا کہو گے ؟اس قسم کے بد قسمت انسا ن ہو تے ہیں کہ وہ دو چا ر دن دعا کر کے کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ کیو ں نہ لگا اور اس طرح ایک دنیا گمراہ ہو گئی ہے وظیفے اور مجاہدے کر تے رہے مگر جس حد تک کھو دنے سے پا نی نکلنا تھا اس حد تک نہ کھو دایعنی نہ پہنچے تو خدا کی ذات سے منکر ہو گئے اور آخر کا ر خلقت کا رجوع اپنی طرف دیکھ کر ٹھگ بن گئے اس کا باعث یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی طرف جس رفتار سے چلنا چا ہیئے تھا اس رفتار سے نہ چلے اور اس کے عطا کردہ دوسرے قویٰ اور اعضاء سے کام نہ لیا اور طوطے کی طرح وظیفوں پر زور لگاتے رہے آخر کار لعنتی ہو گئے ۔ ؎ گرنبا شدبدوست راہ بردن ؛ شرط عشق است در طلب مردن اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کی راہ چلا جاوے یہا نتک کہ مر جاوے واعبد ربک حتی یا یتک الیقین کے یہی معنے ہیں وہ موت جب آتی ہے تو ساتھ ہی یقین بھی آجا تا ہے موت اور یقین ایک ہی بات ہے ۔غرضکہ اس کمزوری اور کسل نے لوگوں کو خدا یا بی سے محروم کر دیا ہے کہ پورا حق تلاش کا ادا نہ کیا ۔راستہ چھلکا مل گیا اسی پر راضی ہو گئے اور دو کانداربن گئے۔ راستبازوں کے لباس اطاعت ،عبادت، خد مت میں اگر صبر سے کام لو تو خدا کبھی ضائع نہ کرے گا اسلام میں ہزاروں ہو ئے ہیں کہ لوگوں نے صرف ان کے نور سے ان کو شنا خت کیا ہے ان کو مکاروں کی طرح بھگوے کپڑے یا لمبے چو غے اور خاص خاص متیمز کر نے والے لباس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ خدا کے راستبازوں نے ایسی وردیاں پہنی ہیں پیغمبر خدا ﷺ کا کو ئی خاص ایسا لنا س نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیز ہو سکتے بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابوبکر ؓ کو پیغمبر جان کر ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم وتکریم کر نے لگا آخر ابو بکر ں اٹھ کر پیغمبر ِخدا ﷺ کو پنکھا جھلنے لگ گئے اور اپنے قول سے نہیں بلکہ فعل سے بتلا دیا کہ آنحضرت ﷺ یہ ہیں مَیں تو خادم ہوں جب انسان خدا کی بندگی کرتا ہے تو اسے رنگدار کپڑے پہننے ،ایک خاص وضع بنا نے اور مالا وغیرہ لٹکا کر چلنے کی کیا ضرورت ہے ایسے لوگ دنیا کے کتے ہو تے ہیں خدا کے طالبوں کو اتنی ہو ش کہاں کہ وہ خاص اہتمام پوشاک اور وردی کا کریں۔ وہ تو خلقت کی نظروں سے پوشیدہ رہنا چاہتے ہیں۔ بعض بعض کو خدا تعالیٰ اپنی مصلحت سے با ہر کھینچ لاتا ہے کہ اپنی الوہیت کا ثواب دیوے آنحضرت ﷺ کو ہر گز خواہش نہ تھی کہ لوگ آپ کو پیغمبر کہیں اور آپ کی اطاعت کریں اور اسی لیے ایک غار میں جو قبر سے زیادہ تنگ تھی جا کر آپ عبادت کیا کرتے تھے اور آپ کا ہر گز ارادہ نہ تھا کہ اس سے باہر آویں آخر خدا نے اپنی مصلحت سے آپ کو خود باہر نکا لا اور آپ کے ذریعے ے دنیا پر اپنے نور کو ظاہر کیا ۔ انبیائ۔تلا مندالرحمٰن انبیائتلا مندالرحمٰن ہو تے ہیںان کا کو ئی مر شد وغیرہ نہیں ہو تا وہ دنیا سے بالکل فانی ہو تے ہیں وہ ہر گز اپنا اظہار نہیں چا ہتے مگر خدا انکو